انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 349
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۳۴۹ سورة الرعد یافتہ سمجھے جاتے ہیں لیکن جب ہم ان کی زندگیوں پر غور کرتے ہیں تو اُن کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ہمیں اطمینان کا فقدان نظر آتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ انہیں دنیا سے بہت کچھ ملا لیکن ان کو اطمینان قلب حاصل نہیں ہوا اور وہ اس کی تلاش میں ہیں۔اگر انسان سوچے تو یہی بات سمجھ آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یا د ہی انسان کو مطمئن کر سکتی ہے اور اس کے دل میں اطمینان پیدا کر سکتی ہے۔انسان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے تسکین قلب حاصل ہو سکتی ہے۔ایک دوسری جگہ انسانی زندگی پر نماز اور نماز با جماعت کے اثرات بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ لَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ (العنکبوت : ۴۶) یہ جو خدا تعالیٰ کا ذکر ہے سب سے بڑی اور سب سے زیادہ مؤثر نیکی ہے۔خدا تعالیٰ کا ذکر سب سے زیادہ قائل کرنے والی چیز ہے۔خدا سے دُوری کی لعنت سے بچانے والی چیز ہے۔ذکر کے معنے ہیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا۔اللہ تعالیٰ کو یاد کر نے کا مفہوم یہ ہے کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے جو انعامات نازل ہوتے ہیں ہم اُن پر غور کریں۔ہم اپنی بے کسی کو سامنے رکھیں اور اس کی نعمتوں پر توجہ دیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہم پر بڑا فضل کیا ہے۔ہماری زندگی کی کوئی ایک بھی ساعت ایسی نہیں جس میں خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہم پر نازل نہ ہو رہی ہو۔ایک یا دو رحمتوں کا سوال نہیں بلکہ ہر آن اور ہر گھڑی اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہم پر نازل ہو رہی ہیں اور میں یہ جو کہتا ہوں کہ ہر گھڑی اور ہر آن بے شمار رحمتیں نازل ہو رہی ہیں تو اس میں میں کوئی مبالغہ نہیں کر رہا۔یہ ایک حقیقت ہے جس کی وسعتوں کا ہمارے الفاظ احاطہ نہیں کر سکتے حقیقت اس سے بھی زیادہ ہے جتنی ہم بیان کرتے ہیں یا کر سکتے ہیں۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۳۴۳، ۳۴۴) پس محدود اختیار ہے اور محدود اختیار میں انسان کے لئے دو راستے کھلے ہیں ایک وہ راستہ ہے جو جہنم کی طرف لے جانے والا ہے اور ایک وہ راستہ ہے جو خدا تعالیٰ کی جنتوں کی طرف لے جانے والا ہے۔جو راستہ خدا تعالیٰ کی جنتوں کی طرف لے جانے والا ہے وہ امن کا راستہ، وہ سلامتی کا راستہ، وہ اطمینان قلب کا راستہ، وہ تسکین قلب کا راستہ ہے۔اسی واسطے مومن جو خدا تعالیٰ سے ذاتی تعلق رکھنے والا اور اس کی صفات کو سمجھنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ الا بِذِكْرِ اللهِ تَبِنُ الْقُلُوبُ - ذكر الله کے نتیجہ میں