انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 348 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 348

۳۴۸ سورة الرعد تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث استعدادیں بھی آجاتی ہیں جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اسے مومن اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور ثبات قدم دکھاتے ہیں اور آگے ہی آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب ان کے اعمال، جب ان کی کوششیں، جب ان کی جد و جہد مقبول ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو جاتا ہے تو انہیں زیادہ سے زیادہ انعام حاصل ہوتے ہیں۔جو کچھ مومن خرچ کرتے ہیں اس میں ان کے اموال بھی شامل ہیں۔خدا تعالیٰ کی راہ میں اموال کا خرچ ایک تو یہ ہے کہ کسی ایسی راہ میں یا کسی ایسے طریق پر یا کسی ایسی جگہ مال کو خرچ نہ کیا جائے جو خدا تعالیٰ کے احکام کے خلاف ہو مثلاً اسراف نہ ہو یا مثلاً ایسی بداخلاقیوں پر یا عیاشیوں پر یا دنیا کی معیوب مسرتوں پر جو دنیا خرچ کرتی ہے اس قسم کا خرچ نہ ہو کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں نہیں ہے اور یہاں پر اللہ کی راہ میں اللہ کی رضا کے حصول کے لئے ہی ساری باتوں کا ذکر ہے۔اسی واسطے اس آیت کو شروع ہی خدا تعالیٰ کی رضا کی طلب میں ثبات قدم دکھانے کے مضمون سے کیا گیا ہے۔( خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۳۶۷، ۳۶۸) آیت ۲۹٬۲۸ وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ لَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّنْ رَّبِّهِ قُلْ إِنَّ اللَّهَ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِى إِلَيْهِ مَنْ آنَابَ الَّذِينَ امَنُوا وَ تَطْمَبِن قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ۔ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے دل اطمینان پکڑتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَهْدِى إِلَيْهِ مَنْ آنَابَ خدا تعالیٰ ہدایت کی راہیں اُن لوگوں پر کھولتا ہے جو اُس کی طرف جھکتے ہیں اور اُس سے تعلق قائم کرتے ہیں۔الَّذِینَ آمَنُوا جو لوگ دل سے ایمان لاتے ہیں اور زبان سے اس کا اقرار کرتے ہیں اور ایمان کے مطابق عمل کرتے ہیں۔وَ تَطْمَبِن قُلُوبُهُم بذکر اللہ اور اُن کی ساری کی ساری زندگی ثابت کرتی ہے کہ اُن کے دل خدا تعالیٰ کے ذکر سے مطمئن ہیں۔اَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَيِنُ الْقُلُوبُ اور حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے انسانی قلوب اطمینان اور تسکین خوشی اور مسرت کی کیفیت محسوس کرتے ہیں۔دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں اور لوگوں کے ایسے گروہ ہیں جو دُنیوی لحاظ سے بہت ترقی