انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 344 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 344

۳۴۴ سورة الرعد تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث دوسری بات یہ بتائی کہ ثبات قدم اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب میں جو ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کریم کے ہر حکم کے پابند ر ہو۔بعض لوگ سمجھتے ہیں نماز پڑھ لی مسجد میں آئے، یہ کافی ہے۔بعض لوگ میرے علم میں ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ مسجد میں آکر لمبے لمبے نوافل پڑھ لئے اور لوگوں کی نظر میں آگئے بزرگ بننے کے لئے یہ کافی ہے۔بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ رمضان کے روزے بھی رکھ لئے اس کے ساتھ تو پھر تو کوئی شبہ نہیں رہا کہ اللہ تعالیٰ ہم پر وہ فضل نازل کرے گا جو ان لوگوں پر ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا کی طلب میں صبر اور ثبات قدم کا نمونہ دکھاتے ہیں۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ نماز اور روزے کے ساتھ اگر حج ہو جائے ، اگر میں زکوۃ دے دوں تو یہ کافی ہے۔یہ نہیں۔قرآن کریم نے سات سو سے زیادہ احکام بیان کئے جو ہماری زندگیوں کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم قیامت کے دن تم سے سوال کرے گا تمثیلی زبان میں بات کی، کہ آیا تم قرآن کریم پر عمل کرتے رہے ہو یا نہیں ؟ قرآن کریم نے صرف یہ نہیں کہا کہ نمازیں پڑھو، دعائیں کرو، روزے رکھو، حج کرو، زکوۃ دو، قرآن کریم نے صرف یہی نہیں کہا کہ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرۃ: ۴) کہ جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا ہے اس میں سے خدا تعالیٰ کی راہ میں اس کے حکم کے مطابق خرچ کرو۔اتنا بھی نہیں یعنی سارے احکام کی پابندی بھی کافی نہیں اس کے لئے بھی ایک شرط لگا دی۔وَيَدرَرُونَ بِالْحَسَنَةِ الشَّيْئَةَ تمہیں دیا تو الحَسَنَةِ گیا ہے لیکن - تمہارے اوپر یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اس حسنہ کے ذریعے فسادنہ پیدا ہو بلکہ برائی اور فساد اور فتنے کو دُور کرنے والے ہو تم۔قرآن کریم نے صرف یہ جو موٹی موٹی چیزیں ہیں پانچ دس صرف ان کا حکم نہیں دیا۔قرآن عظیم تو بڑی عظیم کتاب ہے، اس نے یہ بھی کہا ہے کہ میرے جیسی عظیم کتاب کو اتنی بلند آواز سے نہ پڑھو کہ کسی دوسرے کو تکلیف پہنچے اس کی وجہ سے ہمسائے میں ایک بیمار پڑا ہے۔رات کو اس کے شدید درد اٹھا (مثلاً) صبح تین بجے تک وہ تڑپتا رہا۔دوائیاں اس کو دی گئیں۔تین بجے اس کی آنکھ لگی اور ہمسائے اگر زور زور سے قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دیں جس سے اس بیمار کی نیند خراب ہو۔قرآن کریم کہتا ہے تم قرآن کریم تو پڑھ رہے ہو لیکن گناہ کر رہے ہو۔قرآن کریم نے کہا ہے مجھے پڑھنا ہے تو علی مکث اس طریقے پہ پڑھو کہ کسی اور کے لئے تمہاری تلاوت تمہارا پڑھناوجہ تکلیف نہ بنے۔قرآن کریم کہتا