انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 342 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 342

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۳۴۲ ورة الرعد پانی ملا اور اس کی زیادتی ہو گئی تو اس پانی کو بند کرنے کے لئے اور اس میں مناسب توازن قائم کرنے کے لئے ان کو کوئی سہارا نہیں ملتا تھا۔وہ لوگ اسی چکر میں رہتے ہیں۔میں نے تو ایک چھوٹی سی مثال دی ہے ورنہ ان کی ساری زندگیاں ہی اسی چکر میں ہیں۔شراب کے نشے میں اپنے دکھوں کو بھولنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔وہ شراب جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے کہ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيطن ( المائدة : 91 ) کہ یہ شیطانی عمل کی گندگی ہے اور وہ خدا کی طرف جھکنے کی بجائے ذکر اللہ کی بجائے شیطانی عمل کی طرف جھک کر اپنے لئے سکون قلب تلاش کرتے ہیں لیکن دکھ کا بھول جانا تو اطمینان قلب نہیں کہلا سکتا کہ جی ہمیں یاد نہیں رہا۔جیسے کہ اگر کوئی آدمی بیمار ہو اور درد میں تڑپ رہا ہو اسے ڈاکٹر افیم کا مارفیا کا ٹیکہ لگا دیتے ہیں اور بے حس کر دیتے ہیں لیکن بے حسی سکون قلب اور خوشحالی کی علامت نہیں۔بے حسی خواہ کسی فعل کے نتیجہ میں پیدا ہو ٹیکہ لگانے کے نتیجہ میں یا شراب پینے کے نتیجہ میں وہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان تکلیف میں ہے لیکن اس کو کوئی مداوہ نظر نہیں آتا، اس کو کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔وہ خود کو بے حس اور بے ہوش کر کے یا نیم بے ہوشی اپنے اوپر طاری کر کے تکلیف کا احساس دور کرنا چاہتا ہے کیونکہ تکلیف کو دور کرنے کا کوئی سامان اس کے پاس نہیں ہے۔خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۵۵۷ تا ۵۶۰) آیت ۲۳ وَ الَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَانْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً وَ يَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُولَبِكَ لَهُم عُقْبَى الدَّارِ اس آیت کریمہ میں ایک بنیادی بات بتائی گئی ہے جس کا تعلق انسانی زندگی کے ہرلمحہ سے ہے اور وہ یہ ہے۔وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ جنہوں نے اپنے رب کی رضا کی طلب میں ثابت قدمی سے کام لیا۔یہ جو وفا اور ثبات قدم ہے اس کا تعلق انسانی زندگی کے، فردی زندگی کے کسی خاص وقت کے ساتھ نہیں۔صبح کے ساتھ نہیں کہ ظہر کے ساتھ نہ ہو اور ظہر کے ساتھ نہیں کہ شام کے ساتھ نہ ہو۔زندگی کا ہر لمحہ خدا تعالیٰ کی رضا کی طلب میں خرچ ہو ، اسے اس آیت کی روشنی میں ثبات قدم کہا