انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 27
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث کے سامان پیدا کرتا ہے )۔۲۷ سورة المائدة پس جہاں خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کا عرفان حاصل کرنا ضروری ہے اور قرآن کریم نے اسے بیان کیا وہاں اس کے مقابلہ میں تین دشمن بھی ہیں ایک نے کہا کہ سر پھوڑ دیں گے تمہارا اگر تم نے نمازیں پڑھیں۔چنانچہ کی زندگی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک لمبا عرصہ چھپ چھپ کر خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے اور وہ معرفت اور علم، اتنا عظیم علم ! اتنا حسین علم ! ایسا علم جس کے اندر احسان کی بڑی زبر دست طاقتیں ہیں اس کے متعلق ظاہری دشمن نے بھی یہ اعلان کیا کہ یہ تو کوئی چیز نہیں ہے اور اس کی طاقت کوئی طاقت نہیں ہے۔ان کے خیال میں یہ روحانی علم ایسا تھا کہ جسے تلوار کی دھار کاٹ سکتی تھی۔تلوار کی دھار مادی چیزوں کو کاٹا کرتی ہے اور جو روحانی قوتیں اور طاقتیں ہیں انہیں تلوار کی دھار اور انہیں تیر خواہ وہ کس قدر طاقتور کمان سے ہی کیوں نہ چھوڑے جائیں اور انہیں نیزہ کی انی نہیں کاٹا کرتی وہ علم تو اپنی جگہ قائم رہنے والی روحانی طاقت ہے لیکن انہوں نے اپنے زعم میں یہی خیال کیا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے چند ایک ہیں شاید وہ ان کی گردنیں اڑا کر خدا تعالیٰ کے سلسلہ کو ختم کر دیں گے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس ظاہری دشمن کا بھی مقابلہ کرنا ہے جب وہ ظاہری اور مادی سامان لے کر آئے تو تمہیں ظاہری اور مادی سامان لے کر اس کے مقابلہ میں جانا چاہیے خواہ اس کے مقابلہ کے لئے تمہارے پاس ظاہری اور مادی سامان ان کی طاقت کے مقابلہ میں سو میں سے ایک بھی نہ ہوں یا ہزار میں سے ایک بھی نہ ہوں یا لا کھ میں سے ایک بھی نہ ہوں لیکن اگر تمہیں کہا جائے کہ خدا تمہیں کہتا ہے کہ ان مادی سامانوں کا مقابلہ مادی سامانوں سے کرو تو تم ان کا مقابلہ کرو۔یہ ظاہری مادی طاقت جو بعض سر پھرے انسانوں کے ہاتھ میں ہمیں نظر آتی ہے اس کو نا کام کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے غیر مادی روحانی طاقتیں بھی پیدا کی ہیں اور یہی چیز ہے جو مومن مسلم انسان کی طاقت کو ثابت کرتی ہے لیکن اس وقت میں اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔غرض پہلے مفسرین نے بھی کہا ہے کہ جَاهِدُوا فِی سَبِیلِہ میں تینوں دشمنوں کا ذکر آتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی تینوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور پہلوں سے بہت زیادہ تفصیل کے ساتھ اور بہت زیادہ حسن کے ساتھ اور بہت زیادہ مؤثر طریقے پر اور بہت زیادہ قائل کرنے والے بیان کے ساتھ دنیا کو بتایا ہے۔