انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 341 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 341

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۴۱ سورة الرعد رہے تھے کہ اگر مہینہ دو مہینے یہی حالت اور رہی تو ہم جہازوں کے ذریعہ، ٹینکرز کے ذریعہ ناروے سے پینے والا پانی اپنے ملک کے لئے لے کر آئیں گے۔درخت جل رہے تھے، لوگوں نے گھروں میں جو پودے لگائے ہوئے تھے وہ سوکھ رہے تھے اور ہدایت یہ تھی کہ ان پودوں کو پانی نہیں دینا کیونکہ پانی کی کمی ہے اور پھر جب میں واپس آیا ہوں تو بارش ہوئی اور بارش وہ ہوئی کہ یہ خبریں آنے لگیں کہ فلاں علاقے میں سیلاب آ گیا ہزار ہا آدمی بے گھر ہو گئے، مکان بہہ گئے ، پانی کا جو ریلہ آیا وہ پورا مکان کا مکان ہی بہا کر لے گیا کئی جانیں تلف ہوئیں اور نقصان ہو گیا۔پس چونکہ وہ خدا تعالیٰ کا حکم ماننے کے لئے تیار نہیں اور اللہ تعالیٰ نے انسان کی فلاح اور کامیابی اور خوشحال زندگی کے لئے جو تعلیم بھیجی ہے اس کی طرف توجہ نہیں کرتے اس لئے اپنے ہاتھ سے بھی وہ اپنی ناکامیوں کے سامان پیدا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو بیدار کرنے کے لئے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ان کے منہ اور تو جہ کو پھیرنے کے لئے انہیں گاہے گاہے جھنجھوڑتا بھی رہتا ہے جیسا کہ اس کی سنت ہے۔یہ بات کرتے ہوئے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا ایک واقعہ یاد آ گیا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے پیاروں کے ذریعے سے اور اب اس زمانہ میں بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنے نہایت ہی پیارے محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اپنی رحمت کے سامان پیدا کرتا ہے۔ایک دفعہ قحط پڑا۔مدینہ میں بعض صحابہ نے جمعہ کے وقت کہا کہ یا رسول اللہ ! قحط پڑا ہے، چارے بھی خشک ہو گئے ہیں، جانور بھی تکلیف میں ہیں اور انسان بھی تکلیف میں ہیں اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لئے بھلائی کے سامان پیدا کرے اور اپنی رحمت کی بارش نازل کرے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ابھی جمعہ ختم نہیں ہوا تھا کہ بارش شروع ہو گئی۔بارش ہوتی رہی اور سات دن زمین خوب سیراب ہوئی۔اگلے جمعہ میں پھر کھڑے ہو گئے کہ یا رسول اللہ بارش تو زیادہ ہو گئی ہے اب ہمیں بارش کی زیادتی نقصان پہنچا رہی ہے۔یارسول اللہ ! دعا کریں کہ بارش تھم جائے۔آپ نے دعا کی اور بارش تھم گئی۔اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے اور خدا تعالیٰ نے آپ کی دعا سے اس علاقے میں آپ کی صداقت اور آپ سے اپنے پیار کا ایک نشان ظاہر کرنا تھا چنانچہ اس طرح لِلَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰی کے مطابق ان کی کامیابی اور فلاح کے اللہ تعالیٰ نے سامان پیدا کر دیئے اور اب مہینوں انگلستان پانی کے لئے تڑ پتار ہالیکن اسے پانی نہیں ملا اور جب