انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 340
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۳۴۰ سورة الرعد بعض لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ سمجھتے ہیں کہ اس دنیا کے آرام اور عیش کے مل جانے کے نتیجہ میں حقیقی کامیابی حاصل ہوتی ہے قطع نظر اس کے کہ ان کو اس دنیا کا عیش و آرام ملتا بھی ہے یا نہیں۔لیکن چونکہ یہ مفروضہ کہ اس زندگی کے ساتھ انسانی حیات ختم ہو جاتی ہے، غلط ہے۔اس لئے اگرا بدی زندگی میں جو موت کے بعد انہیں حاصل ہوتی ہے وہ ناکام رہیں تو اس دنیا کی ان کے نزدیک ان کی کامیابی کا میابی تو نہیں کہلاسکتی لیکن سوچنے والی سمجھ اور فراست جانتی ہے کہ اس دنیا میں بھی حقیقی کامیابی ان کو نہیں ملتی جو خدا کی طرف پیٹھ پھیر کر اپنی زندگی گزارتے ہیں اور شیطانی اعمال کی طرف متوجہ رہتے اور اُن پر کار بند ہوتے ہیں۔مثلاً اس دنیا میں جو ہماری آج کی دنیا ہے اس میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ قو میں جو کہ دنیوی ترقیات کی چوٹی پر پہنچی ہوئی ہیں امریکہ اور روس اور پھر چین اور یورپین ممالک ہیں یعنی انگلستان اور جرمنی اور فرانس وغیرہ وغیرہ لیکن بحیثیت قوم جب ان کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں اور جب ان سے بات کی جائے تو جس نتیجہ پر ہم پہنچتے ہیں وہ بھی اس کا انکار نہیں کرتے ) کہ باوجود مادی ترقیات کے انہیں سکونِ قلب حاصل نہیں اور باوجود دنیوی لحاظ سے اس قدر آگے بڑھ جانے کے وہ اندھیرے میں اُس چیز کی تلاش میں پھرتے ہیں کہ جو ان کے دل کے اطمیان کا باعث بن سکے۔اس دورہ میں بھی اس مضمون کے متعلق میں نے بیسیوں سے باتیں کیں اور سب نے یہی کہا کہ یہ آپ درست کہتے ہیں ہمیں اطمینان قلب حاصل نہیں ہے۔جو لوگ صاحب اقتدار ہیں جن ہاتھوں میں اُن قوموں کی لگام ہے ان کی پریشانیاں تو خدا کی پناہ، اللہ محفوظ رکھے اس قدر ہیں کہ آپ لوگ اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔آپس کی چپقلش ، بے اعتباری، بدظنی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں نے ان کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔پھر حوادثات بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ابھی پچھلے مہینوں میں جبکہ میں دورے پر رہا ہوں پہلے وہاں پانی کی کمی ہوگئی اور انگلستان جیسے ملک میں جہاں یہ حال تھا کہ جب میں پڑھا کرتا تھا تو ان دنوں میں اگر کسی دن دو تین گھنٹہ کے لئے سورج نظر آتا تھا تو لوگ بڑے خوش ہوتے تھے کہ سورج کی شعاعوں نے ہمیں گرمی اور لذت پہنچائی وہاں اب یہ حال تھا کہ ہفتوں بلکہ مہینوں گزر گئے کہ بارش نہیں برسی بلکہ بہت سے علاقوں میں بادل دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا۔یہاں تک کہ انگلستان کے بعض حصوں میں پانی کا راشن کر دیا گیا اور وہ یہ سوچ