انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 339 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 339

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطن ال ۳۳۹ سورة الرعد بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الرعد آیت ۱۹ لِلَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنَى ، وَ الَّذِينَ لَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُ لَوْ أَنَّ لَهُمْ مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَ مِثْلَهُ مَعَهُ لَا فَتَدَوا بهِ أُولَبِكَ لَهُمْ سُوءُ الْحِسَابِ وَ مَا وَلَهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُةَ b قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لِلَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰی کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کا کہا مانتے ہیں وہی کامیاب ہوتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمتہ للعالمین بن کر دنیا کی طرف آئے اور قرآن کریم کے مخاطب صرف وہی لوگ نہیں ہیں جو آپ پر ایمان لائے بلکہ ہر انسان قرآن کریم کا مخاطب ہے۔پس بنی نوع انسان کو بحیثیت مجموعی یہ کہا گیا ہے کہ خدا کا کہا مانو گے تو کامیاب ہو گے ورنہ نہیں ہو گے۔گذشته قریباً چودہ سو سال سے ہی یہ نظر آتا ہے کہ کچھ لوگ خدا کا کہا مانتے اور شریعت اسلامیہ پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ لوگ کہا نہیں مانتے اور قرآن کریم پر عمل نہیں کرتے۔ان میں سے کچھ تو اس لئے عمل نہیں کرتے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان ہی نہیں لاتے اور کچھ اس وجہ سے عمل نہیں کرتے کہ ایمان لانے کے بعد بھی وہ اُن طاقتوں کی چالوں میں آ جاتے ہیں جو کہ انسان کو خدا تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی پر اُبھارتی ہیں اور وہ قرآن کریم کے احکام پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کرتے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ سچی اور حقیقی کامیابی اسے ہی نصیب ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتا ہے۔کچی اور حقیقی کامیابی کو پرکھنے کے لئے پہلے تو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ انسانی زندگی کی مدت کیا ہے؟