انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 333
۳۳۳ سورة يوسف تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث نے بڑے پیسے خرچ کئے ، اوروں نے بھی بڑی قربانیاں دیں ان لوگوں کے دکھوں کو دور کرنے کے لئے ، اس سے زیادہ شدید گرمی جس کے نتیجہ میں میں آج خطبہ چھوٹا کر رہا ہوں، تپتی ریت پر ننگے جسموں کو لٹا کر کوڑے مارے گئے ان کو۔یعنی جتنا انتہائی ظلم آپ سوچ سکتے ہیں اس سے آگے بے انتہا فا صلے طے کرتا ہوا اُن کا ظلم نکل گیا۔اور جب تیرہ سالہ ظلم سہنے کے بعد آپ نے ہجرت کی تو پیچھا کیا اور تلوار کے زور سے آپ کو مٹانے کے منصوبے بنائے لمبا عرصہ یہ بھی ہے۔بہر حال ان سب مظالم کو سہنے کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قوت اور عزت اور غلبہ کے نتیجہ میں (جواس کی صفات ہیں ) ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ دس ہزار قدوسیوں کا ایک گروہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں مکہ پہنچا تو جور و وسائے مکہ اس ظلم کے باپ تھے، ان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنی عزت کی خاطر اور اپنی عورتوں کی عزت کی خاطر تلوار میان سے نکالتے اور بغیر لڑے انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور وہ جانتے تھے، ان کی اندر کی ، ان کے نفس کی آواز یہ تھی کہ جس قدر ظلم ہم نے ڈھائے ہیں اب حق ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ ہم سے جیسا بھی سلوک کریں، کریں لیکن سلوک کیا کیا ان سے؟ سلوک ان سے یہ کیا لا تثريب عَلَيْكُمُ اليَوم تمہارے سارے گناہ ہم معاف کرتے ہیں، میں اور میرے ماننے والے اور دعا کرتا ہوں میں کہ اللہ تعالیٰ بھی معاف کر دے۔(ابن ہشام غزوہ فتح مکہ ) انسان جب معافی دے دے تو یہ ضروری نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ بھی اس معافی کو قبول کر لے۔قرآن کریم میں کئی جگہ ذکر ہے اس کا۔لیکن اس مقام کے اوپر خدا تعالیٰ نے جس درد کے ساتھ رو وسائے مکہ کے لئے اور جو عرب کا ملک تھا اس کی اصلاح اور ان کے اسلام لانے کے لئے دعائیں کی تھیں اس دن اسی درد کے ساتھ خدا کے حضور یہ دعا بھی کی کہ اے خدا! ہم بھی معاف کرتے ہیں اور تو بھی معاف کر۔اور خدا تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا۔یہ خلق عظیم ہے۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۲۱۵،۲۱۴) آیت ۱۰۵ وَمَا تَسْلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكرُ لِلْعَلَمِينَ کہ اے رسول ! تو جو ان کفار کو تبلیغ کر رہا ہے اور خدا تعالیٰ کا پیغام انہیں پہنچا رہا ہے اس پر تو ان سے کوئی اجر نہیں مانگتا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن کریم تمام جہانوں کے لئے سراسر