انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 26 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 26

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة المائدة خدا تعالیٰ نے ہمیں کہا ہے کہ ہونا چاہیے اور جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور ارشادات میں ہمیں نظر آتا ہے۔یہ تین باتیں جو اس وسیلہ کے اندر آتی ہیں اس کے تین دشمن ہیں اور جس وقت انسان خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اس کی راہ میں روک بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عظیم رسول ایک کامل اور مکمل شریعت لے کر دنیا کی طرف آیا، ایک ایسی شریعت لے کر جس نے خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا اتمام کر دیا اور ان کی تکمیل کر دی تو اس کے بعد یہ نہیں ہوا کہ کوئی مقابلے میں کھڑا نہیں ہوا بلکہ اس کے بعد یہ ہوا کہ رؤسائے مکہ نے اپنی میانوں سے تلواریں نکال لیں وہ یہ سمجھے کہ شاید تلوار کے ساتھ ہم خدا تعالیٰ کے اس سلسلہ کو، خدا تعالیٰ کے اسلام کو ، خدا تعالیٰ کی کامل اور مکمل شریعت کو اور اس کامل اور مکمل شریعت کے لانے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نا کام اور نامراد کر دیں گے۔اُنہوں نے یہ سمجھا اور انہوں نے تلوار میں نکال لیں لیکن اسلام کو نا کام کرنے کے لئے صرف ظاہری دشمن کی مادی طاقت کا مظاہرہ ہی تو نہیں ہوا ، صرف تلواریں ہی میانوں سے نہیں نکلیں، صرف کمانوں پر چلتے نہیں چڑھائے گئے اور ان میں تیر نہیں رکھے گئے،صرف نیزوں کی انیوں کو تیز نہیں کیا گیا، صرف گھوڑوں کی پرورش نہیں کی گئی جن پر سوار ہو کر مسلمانوں کے قتل کرنے کا اُنہوں نے منصوبہ بنایا تھا بلکہ اس ظاہری دشمن کے ساتھ ساتھ ایک مخفی دشمن بھی مقابلہ پر آ گیا۔مذہب کی اصطلاح میں اس کو شیطان کہتے ہیں۔شیطان اپنا کام کافر کے ذریعے بھی کرتا ہے اور شیطان اپنا کام منافق کے ذریعے بھی کرتا ہے۔وہ دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے، وہ جھوٹی افواہیں پھیلاتا ہے، وہ غلط باتیں منسوب کرتا ہے، خدا تعالیٰ کی وحی میں جو کلمے ہیں قرآن کریم میں جو الفاظ آئے ہیں وہ ان کو اپنی جگہ سے ہلا کر اور معانی کو بدل کر دُنیا کے سامنے پیش کرتا اور انسان کے دل میں غلط فہمیاں پیدا کرتا ہے۔اور پھر انسان کے اندر بشری کمزوریاں ہیں یہ صداقت کا اور خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ میں پروئے جانے والوں کا تیسرا دشمن ہے جو کھڑا ہوتا ہے۔یہ ہر شخص کا اپنا نفس ہے اسی واسطے قرآن کریم نے کہا کہ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِه امام راغب کہتے ہیں کہ اس جہاد اور مجاہدہ میں تینوں دشمنوں کا مقابلہ آجاتا ہے، ظاہر دشمن کا بھی، شیطانی وساوس کا بھی اور اپنے نفس کی کمزوریوں کا بھی ( جو کہ شہوات دُنیا کی طرف مائل ہو جاتا اور دُنیا کے لالچ کی طرف پھسلتا اور تباہی ہے۔