انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 315 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 315

۳۱۵ سورة يوسف تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث جسے خدا تعالیٰ کے قرآن اور اس احسن الحدیث کی روشنی عطا ہو جو اس نے ہمارے لئے نازل کی ہے۔اگر عقل کو انوار قرآنی حاصل نہیں تو پھر عقل اس بنیادی مسئلہ کو بھی سمجھنے سے قاصر رہ جاتی ہے کہ بیجہتی اور اخوت اور اتحاد کے بغیر قومی ترقی اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل نہیں کیا جاسکتا۔پس ایک مربی کا یہ کام ہے کہ وہ کوشش کر کے قرآنی نور سے اپنی عقل کو منور کرے اور قرآن کریم نے جو اصول اور جو ہدایتیں اور جو تعلیم قوم میں بشاشت پیدا کرنے ، محبت پیدا کرنے اور اخوت پیدا کرنے کے لئے دی ہیں انہیں سیکھے اور پھر ان کا استعمال کرے کیونکہ اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ جماعت میں بشاشت پیدا کرے۔ہر احمدی کے دل میں یہ یقین ہو کہ میں خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جماعت احمدیہ میں داخل ہوا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے بے شمار ایسے فضل مجھ پر ہیں جوان لوگوں پر نہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک نہیں کہا اور اس وجہ سے اسے خدا تعالیٰ کا ایک شکر گزار بندہ ، اپنی عقل سے کام لینے والا بندہ اور قرآنی انوار سے نور لینے والا بندہ بن کر زندگی کے دن گزار نے چاہئیں۔میں نے شروع میں اشارہ کیا تھا کہ قرآن کریم نے یہ دعوی کیا ہے کہ میرا نزول اس لئے بھی ہے کہ میں گداز دل پیدا کروں جیسا کہ سورۃ الزمر کی چوبیسویں آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اللهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَبًا مُتَشَابِهَا مَثَانِي تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكرِ اللهِ ذَلِكَ هُدَى اللهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ یعنی ہم نے اس احسن الحدیث کو ، اس بہترین ہدایت کو یعنی اس قرآن کریم کو اس کتاب کو جو متشابہہ بھی ہے اور مثانی بھی ہے یعنی تمام صداقتوں کو اپنے اندر جمع بھی رکھتی ہے اور جس جس پہلی کتاب کی صداقت اس نے لی ہے اس سے وہ مشابہت رکھتی ہے اور اس کے علاوہ دیگر نہایت اعلیٰ مضامین اس کے اندر پائے جاتے ہیں جو پہلی کتب سماوی میں نہیں پائے جاتے تھے اور اس کامل اور مکمل کتاب کے نزول کی ایک غرض یہ ہے کہ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وہ لوگ جو اپنی فطری خشیت اللہ سے کام لیتے ہیں وہ حقیقی معنی میں قرآن کریم کے فیوض اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے گداز دل بن جائیں اور ان کے دل اللہ تعالیٰ کی خشیت سے اور بنی نوع کی ہمدردی سے گداز ہو جائیں۔فرمایا ذلِكَ هُدَى اللهِ یہ قرآن کریم کی ہدایت ہے لیکن کوئی شخص اپنے زور سے اسے ج