انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 314 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 314

۳۱۴ سورة يوسف تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث طبائع کے لحاظ سے جو دلائل ایک مربی کے ہاتھ میں دیئے ہیں ان کو وہ جانتا ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ فلاں شخص کی طبیعت ایسی ہے اور اس طبیعت کے لئے فلاں دلیل زیادہ مؤثر اور زیادہ کارگر ہوسکتی ہے۔پس اگر کسی شخص نے خدا تعالیٰ کی نگاہ میں حقیقی مربی بنا ہو تو اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کریم کی روشنی سے اپنے لئے نور فراست اور عقل کی روشنی حاصل کرے اور قرآن کریم سے انتہائی محبت کرے، وہ قرآن کریم کا مطالعہ کرنے والا ہو۔قرآن کریم کو غور اور تدبر سے پڑھنے والا ہو۔قرآن کریم سیکھنے کے لئے دعائیں کرنے والا ہو اور قرآن کریم کو سکھانے کے لئے بھی دعائیں کرنے والا ہوتا کہ دنیا اپنی کم عقلی کی وجہ سے اور اپنی اس عقل کے نتیجہ میں جس میں اندھیروں کی آمیزش ہوتی ہے خدا تعالیٰ کے غضب کو مول لینے والی نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس میں فرمایا وَ يَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ (یونس : ۱۰) یعنی جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اور اپنی عقل کو اس نور کی روشنی کی تاثیر سے متاثر نہیں کرتے جو قرآن کریم کے ذریعہ نازل کی گئی ہے ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو جاتا ہے۔غرض ایک مربی نے اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچانا ہے اور دنیا کو بھی۔بنی نوع انسان کو بھی اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچانا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ وہ اس نور سے وافر حصہ لینے کی کوشش کرے جو قرآن کریم عقل کو دیتا ہے اور دعاؤں میں مشغول رہے۔وہ اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ یہ دعا مانگتا ر ہے کہ اسے بھی اور دنیا کو بھی اپنی کم عقلی اور اندھیروں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا غضب نہ ملے بلکہ اللہ تعالیٰ اسے بھی عقل دے اور قرآنی انوار عطا کرے اور دنیا کو بھی سمجھ دے اور اسے قرآنی انوار دیکھنے کی توفیق عطا کرے تا کہ وہ اس کے غضب کی بجائے اس کی محبت حاصل کرنے والے ہوں۔مربی کا ایک بڑا کام جماعتی اتحاد اور جماعتی بشاشت کو قائم رکھنا ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جونور میں عقل میں پیدا کرتا ہوں اسی کے نتیجہ میں قومی یکجہتی قائم رکھی جاسکتی ہے جیسا کہ سورہ حشر میں فرمایا۔جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى ذلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمُ لَا يَعْقِلُونَ (الحشر : ۱۵) یہاں ویسے تو مضمون اور ہے لیکن ایک بنیادی حقیقت بھی بیان کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم انہیں ایک قوم خیال کرتے ہو حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں اور یہ اس لئے ہے کہ قومی اتحاد اور قوم میں ایک مقصد کے حصول کے لئے بشاشت کا پیدا ہونا اس عقل کے ذریعہ سے ممکن ہے 691999126