انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 309
۳۰۹ سورة هود تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث لا تركنوا جو کہا گیا کہ تم نہ جھکو۔اس کی بنیادی شکل جو بنتی ہے کہ نہیں جھکے ہم۔وہ یہ بنتی ہے کہ ہم دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے اور انسان کی تباہی کے جو سامان ہیں ان کو استعمال کرنے کی یہ جرات نہ کر سکیں ہم میں اتنی طاقت تو نہیں کہ ہم مثلاً امریکہ کا ہاتھ پکڑ لیں یا روس کا ہاتھ پکڑ لیں یا چین کا ہاتھ پکڑ لیں یا بعض دوسری قومیں ہیں ان کا ہاتھ پکڑ لیں لیکن ہمیں خدا تعالیٰ نے یہ سمجھ تو دی ہے کہ ہم اس کا دامن پکڑیں جو ان کا ہاتھ پکڑ سکتا ہے۔ہم خدا تعالیٰ سے دعا مانگیں اور ہمارا یہ دعا مانگنا پوری بیداری کے ساتھ اور ہوش میں آکر اور سمجھ کے ساتھ اور یہ جانتے ہوئے علی وجہ البصیرت کہ انسان تباہی کے گڑھے کے کنارے پر کھڑا ہوا ہے اور سوائے خدا تعالیٰ کی رحمت کے اسے کوئی بچا نہیں سکتا، ہم خدا کے حضور جھکیں اور اس سے کہیں کہ اے خدا! انسان پر انسان ظلم کرنے کے لئے تیار ہے تو فرشتوں کو نازل کر۔ان کو سمجھ عطا کر اور دنیا کے دلوں میں ایک تبدیلی پیدا کر اور نیکی کی راہ کی طرف ان کو واپس لے کے آ کہ تیرے فضل کے بغیر ایسا نہیں ہوسکتا۔اگر ہم باقاعدگی کے ساتھ یہ دعا کریں تو خدا کی نگاہ میں ہم اس گروہ میں شامل ہونے سے بچ سکتے ہیں لَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا میں جس کا ذکر ہے۔جو ان کی طرف جھک جاتے ہیں یعنی جو ذمہ دار نہیں لیکن ان کی طرف جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔پھر خدا کہے گا کہ میرے یہ بندے ایسے ظالموں کی طرف جھکے نہیں تھے۔اگر جھکتے تو میرے حضور حاضر ہو کر مجھ سے عاجزانہ ان کی ہدایت کی دعائیں نہ کرتے اور ان کے دل میں یہ تڑپ پیدا نہ ہوتی کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت بچالے ورنہ انسان بڑی ہولناک تباہی اپنے سامنے اپنی اُفق پر اس وقت دیکھ رہا ہے۔تو وَ لَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ جس نا ر کا یہاں ذکر ہے جس رنگ میں بھی یہ ہو۔اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے اور محفوظ رہنے کے لئے جو اس نے ایک یہ بتایا ہے کہ لا تركنوا اور لا تركنوا کا میں نے بتایا کہ بہت ساری شکلیں بن سکتی ہیں نہ جھکنے کا اعلان عملا لیکن بنیادی چیز یہ ہے کہ ہماری دعا خدا کے حضور خدا کی نگاہ میں ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے گی کہ جو ان کی طرف جھکے نہیں بلکہ ان کی ہدایت کے سامان مانگتے ہوئے انہوں نے بے چینی اور تڑپ کے ساتھ اور عجز اور انکسار کے ساتھ خدا کے حضور دعائیں کیں۔خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۵۱۳ تا ۵۱۸)