انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 299 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 299

تفسیر حضرت علیلة أسبح الثالث ۲۹۹ سورة هود ظاہر کرتا ہے کہ میں مجیب ہوں۔میں نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کی ہر شئے کے قریب ہے لیکن انسان کے علاوہ جو مخلوق ہے جو ذی شعور نہیں ان کو یہ علم نہیں کہ ان کے اندر خدا تعالیٰ کا نور بھی جلوہ گر ہے اس کا حسن بھی جلوہ گر ہے اس کی ربوبیت بھی جلوہ گر ہے، اس کی خالقیت بھی جلوہ گر ہے، اس کی قیومیت بھی جلوہ گر ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے قریب تو ہے لیکن ان پر اللہ تعالیٰ کی صفت مجیب کا جلوہ ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اس کام کے لئے بنے ہی نہیں۔دوسری قسم کا قرب بھی گوانسان سے مخصوص ہے لیکن اس میں اللہ تعالیٰ اپنے قرب کے جلوے تو ظاہر کرتا ہے مگر پیار سے اپنے مجیب ہونے کے جلوے ظاہر نہیں کرتا ہاں وہ قہر اور غضب کے جلوے ظاہر کرتا ہے۔تیسری قسم کا قرب پیار کا قرب ہے اسی کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ایک ایسا گروہ تھے جنہوں نے انتہائی تکالیف برداشت کیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رب کا ساتھ نہیں چھوڑا اس لئے کہ ان لوگوں پر اس رب کے جلوے ظاہر ہو چکے تھے جو قریب بھی ہے اور مجیب بھی ہے۔وہ اپنی زندگیوں میں زندہ خدا کی زندہ تجلی مشاہدہ کرتے تھے اور اس کے نتیجہ میں ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی ذاتی محبت پیدا ہو گئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کو اگر پیسا جائے اور پھر ان کو نچوڑا جائے تو جو شربت اور نچوڑ نکلے گاوہ اللہ تعالیٰ کی محبت ہوگی۔یہ لوگ ہر قسم کے مصائب میں سے گزرتے تھے لیکن خدا تعالیٰ سے ان کا تعلق پختہ رہتا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی سے وہ ادھر اُدھر نہیں ہوتے تھے اس لئے کہ اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کے قریب اور مجیب ہونے کے جلوے دیکھے تھے۔اس کے بغیر کوئی قوم اس قسم کی قربانیاں پیش نہیں کر سکتی جو صحابہ نے پیش کیں۔اس کے بغیر انسان کی فطرت اس قسم کی تسلی نہیں پکڑ سکتی کہ ایک لگن ہے ایک جوش ہے ایک آگ ہے جو دل میں بھڑک رہی ہے کہ میرا رب مجھ سے خوش ہو جائے۔اس سے میرا تعلق قائم ہو جائے۔اس قسم کا قرب حاصل نہ کرنے والے انسان اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کے جلوے تو دیکھ لیتے ہیں کیونکہ وہ ذی شعور ہیں اور روحانیت رکھتے ہیں لیکن وہ اسی قسم کے جلوے ہیں جو ایک درخت پر بھی ظاہر ہوتے ہیں صرف فرق یہ ہے کہ درخت ذی شعور نہیں اور اسے ان کا احساس نہیں ہوتا۔وہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے جلوے بھی دیکھتے ہیں جب وہ اس کے قہر کا قرب کسی اور قوم