انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 290 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 290

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۲۹۰ سورة يونس پھر ایک اور جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :- وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ (الانعام :(۶۷) ایک رنگ میں یہ بیان ہمارے جذبات کی تاروں کو چھیڑتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی بڑی ہدایت لے کر آئے لیکن قوم نے اس پیغام کی تکذیب کر دی اور اسے جھوٹا قرار دے دیا حالانکہ هو الحق یہ تو ایک صداقت ہے یہ تو ایک سچائی ہے لیکن فرمایا:۔قُلْ لَسْتُ عَلَيْكُمْ بوکیل اے رسول ! تم ان سے کہہ دو۔میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔یہ فیصلہ بہر حال تم نے کرنا ہے کہ آیا تم اپنی مرضی سے ایمان کا اظہار کرو گے اور ہدایت کی راہوں کو اختیار کرو گے اور خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہدایت کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے قرب کی تلاش کرو گے یا تم کفر کا اعلان کرو گے اور خدا تعالیٰ سے دوری کی راہوں کو اختیار کرو گے۔میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔خدا تعالیٰ نے میرے اوپر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی کہ میں تم پر جبر کر کے زبردستی کے طور پر کسی مادی طاقت کے ذریعہ تمہارے اس اختیار کو چھین کر جو خدا تعالیٰ نے تمہیں دیا ہے تمہیں ہدایت کی راہوں کی طرف لاؤں۔( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۲۲۳ تا ۲۲۶) ور آیت ١٠ وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَاصْبِرُ حَتَّى يَحْدُمَ اللهُ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحَكِمِينَ اس میں پہلے معنی جو شریعت کے احکام پر سختی سے کاربند رہنے کے ہیں۔اس کی طرف اشارہ ہے کہ جو وحی تمہاری طرف کی گئی ہے۔قرآن کریم کی شریعت نے جو احکام تمہارے سامنے رکھے ہیں ان کی اتباع کرو۔واصبر “ اور پورے مجاہدہ کے ساتھ ، پورے زور کے ساتھ اپنے نفسوں کو احکام شریعت کا جو دائرہ ہے اس کے اندر باندھے رکھو اور قید رکھو۔بے قیدی کی زندگی نہ گزارو۔یعنی اتباع وحی محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں صبر سے کام لو۔یعنی پورے طور پر اپنے نفسوں پر زور دے کر شریعت کی پابندی کرو اور شریعت کا جوا اپنی گردن پر رکھو اور بے قید زندگی گزارنے کی کوشش نہ کرو۔وَاصْبِرُ حَتَّى يَحُكم الله اور اس میں چھٹے معنی بھی آجاتے ہیں جو میں نے ابھی بیان کئے ہیں کہ 19191