انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 289 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 289

۲۸۹ سورة يونس تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث جیسا کہ میں بتا چکا ہوں انسان کے ساتھ داعی الی الخیر لگا ہوا ہے یعنی انسان کی فطرت کی وہ آواز جو اسے نیکی کرنے پر ابھارتی ہے لیکن صرف یہی نہیں بلکہ تَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى(المائدة: ۳) کی رو سے بیرونی اثرات کا بھی دخل ہے۔چنانچہ اس مضمون کو زیادہ واضح طور پر ذیل کی آیہ کریمہ میں بیان کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- أدْعُ إِلى سَبِيْلِ رَبَّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ (النحل : ١٣٦ ) اے رسول ! لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ذریعہ اپنے رب کی راہ کی طرف بلا۔کوئی سختی نہیں کرنی۔لفظی سختی بھی نہیں کرنی سوائے اس کے کہ کسی کی بھلائی مد نظر ہو کیونکہ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ یہ تو اللہ کو علم ہے کہ واقع میں وہ کون شخص ہے جس نے پورے طور پر داعی الی الشتر کی بات مان کر خدا تعالیٰ کی راہ سے دوری اختیار کر لی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے جن کے اعمال اور مجاہدہ اور کوششوں کو قبول کرتا ہے جو ہدایت کے راستوں میں کی جاتی ہیں تو بعض جگہ سخت الفاظ بولے جاتے ہیں لیکن ان میں غصے کا اظہار نہیں ہوتا۔آخر ہر سخت کلمہ غصے کے نتیجہ میں تو نہیں بولا جاتا۔مثلاً ہمارا اپنا تجربہ ہے، سمجھ دار ماں باپ بھی جانتے ہیں کہ گھروں میں ڈیڑھ دو سال کا بچہ جو کچھ کچھ بات سمجھتا ہے اس کو اگر غصے والی شکل بنا کر کسی بات سے منع کریں تو وہ رونے لگ جائے گا اور وہی فقرہ مسکراتے ہوئے کہیں تو وہ بھی مسکرانے لگ جائے گا۔پس خدا تعالیٰ اور اس کے بندے اس معنی میں غضب کا اظہار نہیں کرتے جس معنے میں ایک مغضوب الغضب انسان غضب کا اظہار کیا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں بھی اپنے لئے غضب کا لفظ استعمال کیا ہے وہاں بھی در اصل اس کی رحمت کا ہی کوئی نہ کوئی پہلو بیان ہوا ہے اور اس میں بھی مخاطب کی بھلائی ہی مقصود ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری جگہ فرمایا: - فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ (الشوری:۴۱) که اگر اصلاح کی توقع ہو تو معاف کر دینا بہتر ہے لیکن اگر تم سمجھو کہ بڑا ڈھیٹ آدمی ہے جب تک کوئی تھوڑی سی سختی نہ کی جائے گی اس کو سمجھ نہیں آئے گی اور اس کا دماغ درست نہیں ہوگا اور وہ ظلم پر قائم رہے گا تو اس کی بھلائی کے لئے تم سختی کرو مگر اپنے غصے کے اظہار کے لئے نہیں بلکہ اس کی اصلاح کی خاطر۔