انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 286 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 286

تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۲۸۶ سورة يونس خاطر اور کامل تعلیم آپ نے ہمارے ہاتھ میں دی قرآن کریم کی شکل میں ایک کامل شریعت آ گئی۔, اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدة: ٤) خدا تعالیٰ کی رضا کو پانے کے لئے ضروری ہے کہ دنیا، دنیا کی ساری طاقتیں، دنیا کے سارے علوم، دنیا کی ساری دولتیں، دنیا کے سارے جتھے ، دنیا کی ساری شیطنتیں زور لگا لیں انسان اس مقام پر نہ رہے کہ اتباع وحی الہی جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی، وہ ضروری ہے ہر چیز ٹھکرا دینے کے قابل ہے۔اوراللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔جب دو قسم کے مقابلے ہوتے ہیں۔ایک ایسا مقابلہ ہے جس میں خدا تعالیٰ کا حکم ظاہری طور پر پوری شان و شوکت کے ساتھ اگر ظاہر نہ بھی ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا اور ایک وہ مقابلہ ہے جو چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی عظمتوں کا اپنی قدرتوں کا اظہار کرے۔تو یہاں فرمایا کہ صبر یعنی استقامت اور استقلال کے ساتھ اس وحی کو مضبوطی سے، احکام الہی کو مضبوطی سے پکڑے رکھو۔اس وقت تک کہ جو خَيْرُ الحکمین ہے سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے، وہ اپنا فیصلہ کر دے۔پھر جو ظاہری، جو دنیوی پریشانیاں ہیں۔بہت ساری ہوتی ہیں وہ خود بخود دور ہو جائیں گی لیکن یہ کہنا کہ ہمیں کوئی دنیوی تکلیف ہی نہ پہنچے کوئی پریشانی نہ ہو۔یہ غلط ہے۔اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ میں تو آزماؤں گا لیکن ہوں تمہارے ساتھ۔اگر تم میرے رہو گے۔جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحه ۳۹۰) اگر تم میرے ہور ہو گے میں تمہارے ساتھ ہوں۔میں تمہارے ساتھ اس وقت بھی کھڑا ہوں جب دشمن کا وارتم پر پڑتا ہے اور تمہیں تکلیف پہنچ رہی ہوتی ہے۔آزمانا چاہتا ہوں تمہیں۔تم سے دور نہیں چلا جاتا اور اگر تم استقامت اور استقلال دکھاؤ گے میرے فیصلے تک اور یہ فیصلہ کرنا کہ کب میں فیصلہ کروں۔یہ میں نے کرنا ہے تم نے نہیں کرنا اس واسطے صبر تمہارا کام ہے۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۱۸۶ تا ۱۸۸)