انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 285
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۸۵ سورة يونس ہے اس کے حق میں یہ وعدے پورے ہوں گے جن کا ذکر اس میں ہے۔پس ایک عہد تو اس رمضان میں، بنیادی عہد بن گیا نا مومن بننے کے لئے۔ہر احمدی کوشش کرے کجی نہ ہو یعنی بعض دفعہ ان کانشس مائنڈ (Unconcious Mind ) اس کو علم بھی نہیں ہوتا اور وہ ہیر پھیر والی بات کر جاتا ہے کہ میں ہمیشہ سچی بات کروں گا۔اور نویں بات یہ ہے کہ اپنی پوری توجہ یعنی ایک بڑا مخلص سارا کچھ ہوتا ہے لیکن بیچ میں توجہ بٹ جاتی ہے۔توجہ نہیں ہے۔اعلان یہ ہے اپنی پوری توجہ دین پر ہمیشہ مرکوز رکھوں گا۔جس کا مطلب یہ ہے یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا کمانی نہیں۔یہ مطلب ہے کہ دنیا کمانے کے بعد دنیا کو اس طور پر خرچ کرنا ہے جو خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ جس طور پر خرچ کیا جائے۔حسناتِ دنیا بھی حسنات آخرت کے لئے حاصل کی جائیں۔اور دسویں بات یہ ہے کہ شرف جو ہے وہ ایک موٹا شرک ہے۔بت پرستی کرنا، ایک نیم موٹا شرک ہے۔قبر پہ جاکے سجدہ کر دینا۔بعض شرک اس سے بھی کم ظاہر ہونے والے ہیں۔اپنے نفس کو کچھ سمجھنے لگ جانا خدا کے سامنے اور اپنے علم پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی تفصیل سے بتایا ہے غرور کرنا۔اپنے حسن پر تکبر کرنا۔اپنے جتھے پر ناز کرنا وغیرہ وغیرہ ساری شرک کی باتیں ہیں۔ایمان باللہ توحید پر مضبوطی سے قائم ہونا، شرک کی ہر قسم کی فنا کا تقاضا کرتی ہے اور یہاں یہ بات بتائی گئی ہے کہ مومن کے لئے ضروری ہے اگر وہ قرآن کریم کی بشارتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے کہ شرک کی کوئی رگ باقی نہ رہے کیونکہ جو اس کے لئے مجاہدہ کرنا پڑتا ہے اس کے لئے سوچنا پڑتا ہے اس کے لئے چوکس رہنا پڑتا ہے اس کے لئے دعائیں کرنی پڑتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔گیارھویں یہ کہ غیر اللہ سے انسانی وجود کے سارے احساس مردہ ہوں اور سارے احساس اللہ کے لئے زندہ ہوں۔اتباع وحی الہی سے یہ میں نے نکتہ اٹھایا ہے۔صرف وحی الہی اور احکام الہی سے زندگی کا خمیر اٹھے۔اور بارہویں یہ معاشرہ ہے نا ہر قسم کے لوگ ہیں۔بارہویں یہ ضروری ہے کہ پوری استقامت اور استقلال جیسے صبر کے ایک معنی یہ بھی ہیں۔پوری استقامت اور استقلال سے یہ اتباع ہو۔اتَّبِعُ مَا يوحى إلى (الاعراف: ۲۰۴) ہے نا۔جو وحی الہی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہماری