انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 21 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 21

۲۱ سورة المائدة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث پھر بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ”جی سارا دن عبادت کر دے رہندے آں چندے نہ دتے تے کیہ ہو گیا حالانکہ ہر قرب کی راہ کو بشاشت سے قبول کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ پیار کرنا چاہیے اور یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہماری زندگی کا ہر راستہ ہمارے رب تک پہنچانے والا ہوتا کہ ہم اس کی رضا کو زیادہ حاصل کر سکیں وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الوسيلة کا ہی مظاہرہ تھا کہ بعض صحابہ کے متعلق آتا ہے کہ چاہے انہیں پیشاب کی حاجت نہ ہوتی وہ بعض جگہ پیشاب کرنے کے لئے بیٹھ جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں پیشاب کرتے دیکھا تھا اس لئے ہم رہ نہیں سکے اور ہم نے یہاں پیشاب کیا ہے بظاہر اس فعل میں کوئی دینی چیز نہیں لیکن اس کے پیچھے جو محبت کام کر رہی ہے وہ بڑی عجیب ہے۔اللہ تعالیٰ یقیناً ایسے جذبات کو قبول کرتا ہے یہ چیز انسان کو کہیں سے کہیں اُٹھا کر لے جاتی ہے غرض وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الوَسِيلَةَ میں ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ ہم نے قرب کی ہر راہ سے پیار کرنا ہے یہ نہیں کہ بعض راہوں کو لے لیا اور بعض کو چھوڑ دیا۔جب خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والی راہوں کی تعیین ہوگئی اور ان راہوں سے پیار ہو گیا تو پھر ایمان کا تیسرا تقاضا یہ ہے کہ جَاهِدُوا فِي سَبِیلِه در اصل جیسا کہ میں نے پہلے اشارہ کیا ہے وَابْتَغُوا إلَيْهِ الْوَسِيلَةَ کا تعلق محبت الہی کے ساتھ ہے جیسا کہ اتَّقُوا اللہ کا تعلق خوف الہی کے ساتھ ہے پھر جَاهِدُوا فِي سَبِيلِہ جس وقت انسان صحیح معنی میں اپنے رب کو پہچانے لگتا ہے اور اس کی ذات اور اس کی صفات کا ملہ حسنہ کا کامل عرفان حاصل کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی بڑی ہی قدر اور عزت انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے اس کی عزت اور عظمت اور اس کا جلال کچھ اس طرح دل میں بیٹھ جاتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں رہتی وہ بیچ نظر آتی ہے قدر دانی کا یہ جذبہ محبت اور خوف سے جدا گانہ ہے اور میں سمجھتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ تجربہ رکھنے والے اس پر گواہی دیں گے کہ یہ خوف اور محبت کے جذبہ سے بلند تر ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خوف اور محبت کے بعد جب تم واقعہ میں اللہ تعالیٰ کو پہنچانے لگے اور اس کی معرفت تمہیں حاصل ہو گئی تو پھر تم اس بات سے رہ نہیں سکتے کہ اس کے راستہ میں جہاد کرو یعنی وہ راہ جب مل گئی تو دنیا کی ہر تکلیف برداشت کرتے ہوئے ہر قربانی دے کر اس راہ پر گامزن رہنا یہ مجاہدہ ہے۔مال کی قربانی ہے نفس کی قربانی ہے، جان کی قربانی ہے، اوقات کی قربانی ہے، عزتوں کی قربانی ہے اور اولاد کی قربانی ہے ہر قسم کی قربانی ہے جس کا مطالبہ