انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 279 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 279

تفسیر حضرت خلیفة المسیح اثاث ۲۷۹ سورة يونس انسان کی توجہ غور کرے اور فائدہ حاصل کرے۔سبق اسے ملے اور پھر اس کی نیت کرے کہ میں نے اس کے مطابق اپنی زندگی گزارنی ہے۔دوسری چیز اس میں یہ ہے کہ شفاء لما فی الصُّدُورِ سینہ کی تمام بیماریوں کے لئے یہ شفاء ہے۔یہ عربی کا یا قرآن کریم کا محاورہ ہے۔انگریزی میں ایک لفظ ہے مائنڈ (mind) اور ہارٹ (Heart)۔یہ دونوں انگریزی زبان محض لوتھڑے کے معنی میں استعمال نہیں کرتے جو ہمارے سینے میں دھڑک رہا ہوتا بلکہ جو عقل کا نقطہ اور سرچشمہ ہے جس سے علم کے سوتے پھوٹتے ہیں اس کو بھی انگریزی میں مائنڈ (mind ) اور ہارٹ (Heart) کہتے ہیں اور عربی زبان میں عقل کہتے ہیں جو ہمارے سینہ میں دھڑک رہا ہوتا ہے اس کو بھی کہتے ہیں دل اور قلب اور اس کو بھی کہتے ہیں جو عقل اور علم کا سرچشمہ بن جاتا ہے۔تو روح کا تعلق دل کے دھڑکنے کے ساتھ نہیں۔روح کا تعلق اس خدا داد عقل اور فر است اور علم کے ساتھ ہے جو روح کی پرورش کرتا ہے علم اور جو راہیں روح کی نشو و نما کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بتائی ہیں ان راہوں کی طرف لے کے جاتا اور ان پر روح کی کوشش کو قائم کرتا ہے۔قرآن کریم میں بعض دوسری جگہ اس کی وضاحت بھی کی۔مثلاً فرمایا کہ آنکھوں کی بصارت کا ذکر ہم نہیں کرتے۔وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ (الحج: ۴۷) جو دلوں میں قلوب ہیں یعنی مائنڈ (mind) اور وہ عقل کا سر چشمہ اور علم کا جو ہے وہ اندھا ہو جاتا ہے اور اس میں امام راغب کہتے ہیں عقل کی طرف اور علم کی طرف اشارہ ہے اور اندھا پن بھی ہے یعنی جو عقل اندھی بھی ہوتی ہے۔ہمارے اردو میں بھی محاورہ آ گیا ہے اور عقل بہری بھی ہوتی ہے یعنی جو اس کے فائدہ کی بات ہے وہ سننے کے لئے تیار۔ایک لڑائی ہو جاتی ہے۔مادی دلچسپیوں کی روحانی حقائق کے ساتھ۔اور عقل جو ہے وہ مادی دلچسپیوں میں کھوئی جاتی ہے اور گم ہو جاتی ہے اور ختم ہو جاتی ہے اور مرجاتی ہے اور جس غرض کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے اس غرض کو وہ پورا نہیں کر رہی ہوتی یا اسے خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کی بتائی ہوئی ہدایت کے مطابق عمل کرنے کے نتیجہ میں حیات ملے۔قرآن کریم میں آیا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر کان دھرو اس کے لئے کہ تمہیں وہ اس لئے بلا رہے ہیں کہ تمہیں زندہ کریں لیکن اس قسم کا بہرہ پن جو ہے یہ بھی ایک بیماری ہے۔جس کی شفاء قرآن کریم کہتا ہے کہ شفَاء لِمَا فِي الصُّدُور قرآن کریم دل کی ، مائنڈ (mind) کی عقل کی ،علم