انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 277
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۷۷ سورة يونس یہ بے شک هدى اور رَحْمَةً ہے۔مگر هُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ جن لوگوں پر یہ کتاب نازل ہوئی ہے۔اگر وہ اس پر ایمان لانے کا اظہار اور اقرار نہ کریں اور اس کی بتائی ہوئی ہدایتوں کے مطابق اس پر عمل کرنے کی کوشش نہ کریں اور اپنی زندگیوں کو قرآن کریم کے مطابق نمونہ بنانے کی سعی نہ کریں اور اگر وہ خدا کی نگاہ میں حقیقی مومن نہ بنیں تو یہ کتاب ان کے لئے رحمت نہیں زحمت ہوگی۔کیونکہ ان کو ایک نور دیا گیا۔لیکن انہوں نے اس نور پر ظلمت کو ترجیح دی، ایک روشنی انہیں عطا ہوئی لیکن وہ اس روشنی سے بھاگ نکلے اور اندھیروں میں جا چھپے۔ایک شفاء آسمان سے ان کے لئے نازل ہوئی مگر انہوں نے گند کو اختیار کیا اور بیماری کو صحت پر ترجیح دی۔پس جو مومن نہیں ان کے لئے یہ رحمت نہیں ہے، مگر جو مومن ہیں اللہ تعالیٰ کا فضل ان پر نازل ہوگا اور اس کی رحمتوں کے وہ وارث ہوں گے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں یہ فرمایا۔قُل بِفَضْلِ اللَّهِ وَ بِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ کہ اپنے عقائد، اعمال اور اخلاق حسنہ پر غرور نہ کرنا تم میں تکبر، خود پسندی ، خود نمائی اور ریا، پیدا نہ ہو۔اپنے کو کچھ نہ سمجھنا۔کسی خوبی کا مالک خود کو تصور نہ کرنا کہ تمہارا روحانی بیماریوں سے شفاء پا جانا اور رضاء الہی کی راہوں کو اختیار کر کے تمہارا انجام بخیر ہونا تمہاری کسی خوبی کی وجہ سے نہیں، بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے وابستہ ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خوش ہو اور سرور ابدی کے جام پیو کہ تمہارا رب محض اپنے فضل سے تم پر رجوع برحمت ہوا اور اس نے محض احسان کے طور پر تمہیں وہ دیا جو دنیا کی تمام عزتوں اور دنیا کی تمام وجاہتوں اور دنیا کی تمام لذتوں اور دنیا کی تمام خوشیوں اور دنیا کے تمام اموال سے بہتر اور احسن ہے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۳۸۸ تا ۳۹۸) اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے یقینا ایک ایسی کتاب آگئی ہے جو سراسر نصیحت ہے، موعظہ ہے اور وہ ہر اس بیماری کے لئے جو سینوں میں پائی جاتی ہو، شفاء دینے والی ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔تو ان سے کہہ دے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے وابستہ ہے۔پس اسی پر انہیں خوشی منانا چاہیے جو مال و دولت وہ جمع کر رہے ہیں اس سے یہ نعمت کہیں زیادہ بہتر ہے۔۔۔۔۔۔۔