انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 276 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 276

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة يونس ہے کہ تمام وہ روحانی بیماریاں جو شیطانی جراثیم سے پیدا ہوتی ہیں، پہلے ان بیماریوں کو دور کر دیا جائے اور مومنوں کے روحانی وجود میں کوئی شیطانی وسوسہ باقی نہ رہنے دیا جائے اور اس طرح ان کا وجود روحانی طور پر صحت مند وجود ہو جائے۔لیکن اتنا ہی کافی نہیں۔یہاں سے تو اصل کام شروع ہوتا ہے۔تو فرمایا کہ چونکہ تم روحانی ترقیات کے حاصل کرنے کے قابل ہو گئے ہو۔اس لئے اس مرحلہ پر بھی یہ کتاب تمہاری راہنمائی کرتی ہے۔فرمایا ھڈی یہ قرآن تمہارے لئے ہدایت بھی ہے۔عربی زبان کے لحاظ سے اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کتاب میں ایسی تعلیم نازل کی گئی ہے جو آج ہی نہیں بلکہ قیامت تک انسان کی صلاحیت اور استعداد کے مطابق اس کی راہنمائی کرتی چلی جائے گی۔( کیونکہ اس آیت میں يَايُّهَا النَّاسُ سے خطاب کیا گیا ہے ) وہ قرآنی ہدایت رضاء الہی کی راہوں پر گامزن ہونے کا طریقہ بتلاتی ہے اور بتلاتی چلی جائے گی۔وہ روحانی ترقیات کی غیر محدودرا ہیں اس پر کھولتی ہے اور کھولتی چلی جائے گی اور ہر منزل پر پہنچ کر اسے ایک اور نئی بلندی اور رفعت عطا کرتی ہے اور پہلے سے بڑھ کر اخلاص اور وفا اور قربانی کا عملی نمونہ اسے پیش کرنے کی توفیق دیتی چلی جاتی ہے۔یہاں تک کہ مرد مومن ایثار اور محبت کی انتہائی رفعتوں کو اس کی اور محض اس کی برکت سے حاصل کر لیتا ہے اور اس کا انجام بخیر ہو جاتا ہے اور وہ اپنے محبوب، اپنے مطلوب اور اپنے مقصود اور اپنی جنت اور اپنے رب کی رضا کو پالیتا ہے۔اس طرح انسان کے فطری قومی کو صحیح اور احسن راستہ پر چلانے کی طاقت اس کتاب میں رکھی گئی ہے۔چوتھی بات اللہ تعالیٰ نے اس کتاب مجید کے متعلق یہ فرمائی ہے کہ یہ رَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ ہے۔رحمة کا لفظ جب اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں۔انعام دینے والی ، فضل کرنے والی، احسان کرنے والی اور اپنی مغفرت میں ڈھانپ لینے والی ہستی۔تو فرمایا کہ ہم جو رحمن اور رحیم ہیں رحمت کا منبع اور سرچشمہ ہیں۔ہم نے قرآن مجید کو رَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ ( مومنوں کے لئے بطور رحمت ) نازل کیا ہے۔تا اس کی تعلیم پر عمل پیرا ہو کر انسان ہماری رحمت اور مغفرت حاصل کرے اور اس کے ذریعہ سے روحانی بیماریوں کو دور کرے پھر اس کی ہدایت کے فیوض کے نتیجہ میں وہ روحانی ترقی کرتا چلا جائے اور اس کا انجام بخیر ہو۔لیکن فرماتا ہے کہ