انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 20
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة المائدة ہم قرآن کریم کے بھی کر سکتے ہیں کیونکہ قرآن کریم نے بڑی وضاحت کے ساتھ ان راہوں کی نشان دہی کی ہے جو را ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والی ہیں اور اس صورت میں وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ کے یہ معنی ہوں گے کہ قرآن کریم کی ہدایات اور احکام سے دلی پیار اور محبت کرو تا تمہیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جائے پھر وسيلة کے ایک معنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی کئے جاسکتے ہیں اس کی طرف خود قرآن کریم نے سورہ بنی اسرائیل میں اشارہ فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔أولَبِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إلى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ (بنی اسرائیل : ۵۸) که انسانوں میں سے جن کو مشرک معبود بناتے ہیں وہ خود ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر چکے ہوں اور جن کی مدد سے یا جن کے اُسوہ پر چل کر وہ بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر سکیں ایک مومن تو ان سے بھی زیادہ اُسوہ کی تلاش کی تڑپ اپنے اندر رکھتا ہے اور جب ہم ايهم اقرب کے مفہوم کی روشنی میں جو وسیلہ کے اندر پایا جاتا ہے اور جسے سورہ بنی اسرائیل کی یہ آیت واضح کرتی ہے وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسيلَةَ پر غور کریں تو ہم یہ معنی بھی کر سکتے ہیں کہ قرب الہی کی راہوں کی تلاش میں اُسوہ حسنہ کی تلاش کر و یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جن راہوں پر گامزن ہو کر اللہ تعالیٰ کے مقرب بنے تم بھی ان راہوں کو اختیار کرو کیونکہ آپ ہی کامل اُسوہ ہیں تمہارے سامنے چونکہ ایک مثال پہلے سے موجود ہے اس لئے تم انہیں زیادہ آسانی سے پاسکو گے اور آپ کے اُسوہ کو سامنے رکھ کر اور آپ کی نقل کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے قرب کو زیادہ سہولت کے ساتھ حاصل کر سکو گے غرض دوسری ذمہ داری جو ایمان کی وجہ سے کسی انسان پر عائد ہوتی ہے وہ اس آیت میں وَابْتَغُوا اِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ بتائی گئی ہے۔لغت والے لکھتے ہیں کہ الوسيلة کے اندر یہ مفہوم پایا جاتا ہے کہ قرب الہی کی راہوں کو رغبت اور شوق کے ساتھ تلاش کیا جائے پس وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ کے یہ معنی ہوئے کہ تم شوق اور رغبت کے ساتھ ان راہوں کو تلاش کرو جو خدا تک لے جاتی ہیں۔بعض لوگ یہ کہ دیا کرتے ہیں کہ ہم بڑی مالی قربانیاں دیتے ہیں نمازوں میں با قاعدگی نہ ہوئی تو کیا ہوا وہ وابتغوا الیه الوسیلة پر عمل نہیں کر رہے ہوتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مومن کی یہ شان بتائی ہے کہ وہ قرب کی ہر راہ سے محبت اور پیار اور رغبت اور شوق کا تعلق رکھتا ہے یہ نہیں کہ وہ بعض راہوں پر چلے اور بعض راہوں کو چھوڑ دے۔