انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 265 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 265

۲۶۵ سورة يونس تغییر حضرت خلیفہ اسیح الثالث کرو تا کہ جہاں قرآن کریم کی ہدایت ہی دور استے تمہارے سامنے کھولے اور تمہیں اختیار دے کہ جو مناسب حال راستہ ہے اس کو اختیار کرو تو تم واقعہ میں مناسب حال راستہ اختیار کرنے والے ہو۔مثلاً کہا گیا کہ جو تیرا گناہ کرتا ہے اسے معاف بھی تو کر سکتا ہے بدلہ بھی تو لے سکتا ہے لیکن مناسب حال راہ کو اختیار کر اگر معافی سے اس کی اصلاح ہو سکتی ہے معاف کر دے۔اگر انتقام سے اس کی اصلاح ہوسکتی ہے معاف نہ کر انتقام لے۔بعض لوگ معافی دے کر گناہ کرتے ہیں۔معافی دے کر گناہ گارکو گناہ میں بڑھانے والے بن جاتے ہیں۔معاف کر کے گناہ کرنے میں اس کے ممد اور معاون بن جاتے ہیں۔بہت سے احکام ہیں جن پر مناسب حال ہونے کا حکم چسپاں ہوتا ہے اور اس کے مطابق ہمیں عمل کرنے کا حکم ہے۔الصلحت میں جو مناسب حال ہے یعنی وَ عَمِلُوا الصّلحت اس میں جو مناسب کا مفہوم ہے اس سے ایک اور بات کا بھی ہمیں پتہ لگتا ہے اور وہ ایک اور چیز کی طرف اشارہ ہے قرآن کریم نے یہ اعلان کیا کہ میں کتاب مبین بھی ہوں اور کتاب مکنون بھی ہوں تعلیم کا جو پہلو زمانے کے لحاظ سے مناسب حال ہے۔مراد ہے تعلیم تو اپنی جگہ قائم ہے اس میں تو کوئی تبدیلی اور تغیر نہیں ہوسکتا جیسا کہ میں نے پچھلے جمعہ میں لاہور میں کھول کے بیان کیا تھا لیکن ایک ہی تعلیم ہے اس کے بہت سے پہلو نکلتے ہیں۔کچھ پہلو وہ نکلتے ہیں جن سے بدلے ہوئے حالات میں قرآن کریم کی بنیادی تعلیم کا ایک پہلو اجاگر ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ اپنے پاک بندوں مطہرین میں سے کسی کو چنتا اور اسے سمجھتا ہے کہ ہمارا جو یہ حکم ہے اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے۔وہ مکنون کا حصہ جو ہے چھپی ہوئی چیز وہ ظاہر ہو جاتی ہے، وہ روشن ہو کے ہمارے سامنے آجاتی ہے پھر وہ مبین کا ایک حصہ بن جاتی ہے۔اس لئے قرآن کریم کامل اور مکمل شریعت اس لئے بھی ہے کہ وہ مسائل جونزولِ قرآن سے صدیوں بعد پیدا ہونے والے تھے ان مسائل کو بھی قرآن عظیم نے احسن رنگ میں بہترین رنگ میں حل کیا اور حل کیا اپنے ان بندوں کی وساطت سے جنہوں نے خدا کا پیار حاصل کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے نتیجہ میں اور اللہ تعالیٰ خود ان کا معلم بنا اور اسرار قرآنی اس نے ان کو سکھائے اور اس زمانہ پر رحم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ سے اس زمانہ کے ، جو بھی زمانہ تھا جو بھی صدی تھی ، اس میں نئے مسائل جوا بھرے تھے ان کا قرآن کریم کی ہدایت کی روشنی میں حل انسان کے ہاتھ میں رکھ دیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔