انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 257
۲۵۷ سورة التوبة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث دینے والا کہ جن کا کوئی شمار نہیں۔اس پر میرا تو کل ہے حسبى الله وہ خدا میرے لئے کافی ہے۔مجھے تمہاری ضرورت نہیں۔تمہارے ساتھ میرا تعلق شفقت کا ہے، تمہارے ساتھ میرا تعلق اس پریشانی کا ہے کہ تم گناہ میں ملوث ہو کر خدا تعالیٰ سے دور کیوں جا رہے ہو اور اس کے غضب کو کیوں بلا رہے ہو۔اس کے غضب کو کیوں دعوت دے رہے ہو۔اگر تم انسان کے علاوہ دوسری مخلوق ہو تو تمہارے ساتھ میرا تعلق یہ ہے کہ جس غرض کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے اس غرض کے لئے تمہارا استعمال ہو اور اگر انسان ہو تو تمہارے ساتھ میرا تعلق یہ ہے کہ میں تمہیں اس خدائے واحد و یگانہ کی طرف دعوت دوں کہ جو ہر انسان کے لئے وہی اکیلا کافی ہے اور اگر مومن ہو تو تمہارے ساتھ میرا تعلق مبشر ہونے کے لحاظ سے عظیم بشارتیں تم تک پہنچانے کا ہے اور تم سے محبت کرنے کا ہے اور تم پر کرم کرنے کا ہے لیکن تم پر توکل کرنے کا میرا تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔خدا میرے لئے کافی ہے اور اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی پر میرا تو کل ہے اور اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں نہ کسی اور نے پیدا کیا اور نہ کسی میں یہ طاقت ہے کہ وہ انسان کی قوتوں اور استعدادوں کو سمجھ سکے اور ان کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے، اسے پیدا کر سکے یا مہیا کر سکے اور خدا کی نظر سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔اسی پر توکل کرتے ہوئے میں اس کی طرف جھکتا ہوں اور اسی سے امید رکھتا ہوں کہ وہ میرے ساتھ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان وعدوں کے مطابق اور ان بشارتوں کے مطابق سلوک کرے گا جو مجھ سے کی گئی ہیں۔(خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۲۹ تا ۳۴)