انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 256 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 256

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۵۶ سورة التوبة کی تعلیم دی اور اخوت کی تعلیم دی اور ان کی طبائع کو اور ان کی عادات کو بدل کر ان کو ایک برادری اور ایک بنیان مرصوص کی طرح بنادیا۔پس وہ رحیم ہے۔بڑے عظیم ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ہر انسان کا کام نہیں کہ وہ آپ کی عظمت کو پوری طرح سمجھ بھی سکے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو تعلیم اور شریعت لے کر آئے وہ بھی ایک کامل تعلیم اور شریعت ہے اور وہ کامل ہدایت ہے۔اس کامل تعلیم کا انکار کرنے والوں کے متعلق اگلی آیت میں کہا فان تولوا کہ اگر کوئی تمہاری عظمت کو نہ پہچانے اور اس تعلیم اور شریعت اور ہدایت سے پھر جائے ، منہ موڑ لے، پیٹھ پھیر لے تو اس کا تم پر رد عمل یہ ہے کہ قُلْ حَسْبِيَ اللهُ کہو کہ میں مُسَيْطِر نہیں ہوں کہ تمہیں زبردستی ایمان لانے پر مجبور کروں خواہ تمہارے دل میں ایمان نہ ہو اور نہ مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ میں تمہیں اس دنیا میں کوئی سزا یا عذاب دوں۔اس دنیا کے عذاب کے متعلق انداری پیشگوئیاں میری وساطت سے تم تک پہنچی ہیں لیکن ان پیشگوئیوں کو پورا کرنا اس رنگ میں جس رنگ میں کہ یہ پوری ہوں گی یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔آپ قیامت تک کے نوع انسان کی خدمت کرنے والے اور حیوانوں کی خدمت کرنے والے اور دوسری مخلوقات کی خدمت کرنے والے ہیں مگر خدا تعالیٰ نے کہا کہ یہ اعلان کر دو کہ میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور میرا تم پر کوئی احسان نہیں۔میں تمہارے لئے تو یہ کام نہیں کر رہا میں تو اپنے خدا کے پیار کے حصول کے لئے یہ کام کر رہا ہوں۔فَقُلْ پس یہ اعلان کرو کہ حسبی اللہ اللہ میرے لئے کافی ہے۔کسی اور سے اجر کی یا بدلے کی مجھے ضرورت نہیں۔نہ خواہش ہے اور نہ میں لینا چاہتا ہوں لَا اِلهَ اِلَّا هُوَ ایک واحد یگانہ ہے جس کے امر سے اور اس کے عشق میں مست ، بنی نوع انسان کی اور دوسری مخلوقات کی خدمت پر لگا ہوں عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ۔اسی خدائے واحد و یگانہ پر میرا توکل ہے۔وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ اور وہ مالک کو نین ہے۔رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظیم کے ایک معنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہر دو جہان کے مالک کے بھی کئے ہیں۔چنانچہ آپ نے فرمایا ہے کہ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیم کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ ہر دو جہان سے اپنے تقدس اور اپنی بزرگی کے لحاظ سے اس بلند مقام پر ہے کہ جہاں سے ہر دو جہان اس کی نظر کے نیچے ہیں اور وہ علام الغیوب ہے، کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے پس وہ ہستی جس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں اس پر میرا تو کل ہے وہ جو مالک ہے اور قادر ہے اور پیار کرنے والا ہے اور اتنی نعماء