انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 249 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 249

۲۴۹ سورة التوبة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث میں بھی روکیں پیدا کی جائیں گی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ أَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدا (جن: ۲۰) یعنی مساجد کے دروازے خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنے والوں پر بند کر دیئے جائیں گے وہ پرستش کرنے والے جن کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی آگ ہو گی۔مگر وہ جو آنکھوں سے محروم ہیں۔وہ جن کو بصارت عطا نہیں ہوئی اور وہ جن کو روحانی طور پر فراست نہیں ملی وہ ایسے لوگوں پر بھی خدا تعالیٰ کی مسجدوں کے دروازے بند کر دیں گے جن کے دل اللہ تعالیٰ کی محبت کی آگ سے سوزاں ہوں گے۔لیکن خدا تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم اس شخص پر مسجد کے دروازے بند کرتے ہو جو علی الاعلان یہ کہتا ہے إِنَّمَا أَدْعُوا رَبّی میں خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنے والا ہوں۔اس لئے ہر وہ شخص جو خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنا چاہتا ہے اس کے لئے مساجد کے دروازے کھلے ہیں۔پھر فرمایا تم اس شخص پر مسجد کے دروازے بند کرتے ہو جو کہتا ہے وَلا اُشْرِك به احدًا میں خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرا تا کیونکہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے نظارے دیکھنے کے بعد شرک کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔پس ہر شخص جو موحد ہے ہم اسکو یہ کہتے ہیں کہ شرک کی باریک راہوں سے بچنے کی کوشش کرتارہ اور ہماری مسجدوں میں آتارہ اللہ تعالیٰ ہمارے طفیل شاید تمہاری بھلائی کے سامان بھی پیدا کر دے خطبات ناصر جلد چہارم صفحه ۱۵۵،۱۵۴) گا۔مساجد کے متعلق اس وقت ضمنی طور پر بات آگئی ہے تو میں مختصر ا بتادوں کہ اصل مساجد وہ ہیں جن کے اندر مسجد کی رُوح پائی جاتی ہے اسی لئے قرآن کریم نے فرما یا لَمَسْجِدٌ أَيْسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ اَولِ يَوْمِ یعنی وہ مسجد کہ جس کی پہلے دن سے تقویٰ پر بنیا د رکھی گئی ہے اور یہی تقوی مسجد کی رُوح ہے اس کے لئے منبر اور محراب گنبد اور مینار کی ضرورت نہیں ہے۔ہمارے لئے جو سب سے زیادہ مطہر اور مقدس مسجد ہے وہ وہ مسجد ہے جس میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ساری مدنی زندگی میں نمازیں پڑھتے رہے لیکن اس میں نہ کوئی محراب تھی اور نہ گنبد تھا اور نہ اس کے مینار تھے۔کھجور کے درختوں کے ستون تھے کھجور کی ٹہنیوں اور پتوں کی چھت تھی جو بارش میں ٹپک پڑتی تھی لیکن اس کے باوجود اس مسجد کی جو طہارت اور تقدیس ہے اس کا مقابلہ دُنیا کی کوئی اور مسجد نہیں کر سکتی۔