انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 248
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۴۸ سورة التوبة پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایک تو یہ لوگ ہیں مگر ایک وہ بھی ہیں جو امت محمدیہ میں الہی سلسلہ کے لئے گردشوں کے انتظار میں رہتے ہیں۔گردشیں آتی ہیں مگر امتحان کے لئے یہ مومن کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں لیکن ایک منافق اور کمزور ایمان والے آدمی کو ضرور نقصان پہنچاتی ہیں وہ گردش جس کا الہی سلسلہ کے لئے وہ انتظار کرتے تھے عَلَيْهِمْ دَابِرَةُ السوء کی شکل میں ظاہر ہو کر ان کو نقصان پہنچا دیتی ہے۔وہ ان کے لئے ہلاکت کا باعث بن جاتی ہے۔خطبات ناصر جلد چہارم صفحه ۲۱۱ تا ۲۱۴) آیت ۱۰۷ ۱۰۸ وَ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَ تَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَارْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَيَحْلِفْنَ اِنْ اَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنَى وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَذِبُونَ لَا تَقُم فِيهِ اَبَدًا لَمَسْجِدٌ أَيْسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ أَنْ تَقُومَ فِيهِ فِيْهِ رِجَالُ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللهُ يُحِبُّ الْمُطَهِّرِينَ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایک ذمہ داری تم پر یہ بھی ہے کہ اَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ۔فرماتا ہے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ تین مساجد جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب ہوتی ہیں ان کے ظل کے طور پر مساجد بھی بنائی جائیں (اگر وہ مسجد ضرار نہ ہوں یعنی وہ مسجدیں جن کے متعلق قرآن کریم میں دوسری جگہ ذکر آیا ہے وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَ كُفْرًا وَ تَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ بلکہ ایسی مساجد ہوں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اُسّسَ عَلَى التَّقوی یعنی جو پہلے دن ہی خلوص نیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خاطر اور اس کی رضا کے حصول کے لئے اس سے ڈرتے ہوئے اور اس کی پناہ میں آنے کی غرض سے بنائی جاتی ہیں۔ایسی مسجدوں کے متعلق خدائی فیصلہ یہ ہے کہ ان کے دروازے ہر موحد کے لئے کھلے ہیں۔خواہ وہ اسلام قبول کرتا ہو یانہ کرتا ہو۔وہ موحد ہونا چاہئے۔پس یہ وہ عمل کا مقام ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق عمل کیا جائے تو یہ امر ہر قسم کے شر اور فساد کو دور کرنے والا ہے لیکن اس بات کو پھر واضح کر دیا۔فرما یا یا درکھا فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا خدا کے اس گھر میں غیر اللہ کی عبادت نہیں ہوگی۔اگر چہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے راستے