انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 242 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 242

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۴۲ سورة التوبة آیت ٣ ي أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنْفِقِينَ وَاغْلُظْ b عَلَيْهِمْ وَ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ۔ایک منکرین اسلام کا گروہ ہے اور دوسرا منافقین کا گروہ ہے۔منکرین اسلام کے ساتھ ہمارا جو مجادلہ ہے اور ان کو مغلوب کرنے اور اسلام کو غالب کرنے کے لئے جو ہماری جنگ اور جہاد ہے وہ اور قسم کا ہے اور جو منافق کے ساتھ ہماری جنگ ہے وہ اور قسم کی ہے ویسے اصولاً تو ہم تلوار کے ساتھ جنگ نہیں کرتے ہم نے تو ان کی روح کو اپنے قبضے میں لینا ہے ان کے جسموں کو چیلوں کے آگے ڈالنا ہمارا مقصد نہیں ہے۔ہم نے ان کی روح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تھیلے میں لے لینا ہے۔جس طرح لوگوں نے بعض بزرگوں کے متعلق غلط سلط کہانیاں بنا رکھی ہیں (اس کی تفصیل میں میں تو اس وقت نہیں جا سکتا جس دوست کو کوئی کہانی یاد آ گئی ہو وہ حفظ اٹھا لیں ) بہر حال ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اُن کی روح جیتیں۔ہمارا یہ مقصد نہیں ہے کہ ہم ان کی گردن کاٹیں۔تاہم یہ جو مقابلہ ہے یہ جو جیتنے کا ایک فعل ہے اس کے لئے تگ و دو کرنی پڑتی ہے اس کے لئے کوشش کرنی پڑتی ہے اس کے لئے قربانیاں دینی پڑتی ہیں اس کے لئے انتہائی ایثار کے نمونے خدا کے حضور اور دنیا کے سامنے پیش کرنے پڑتے ہیں۔غرض یہ بڑی سخت جنگ ہے اس کے متعلق قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا ہے۔وَاخْلُ عَلَيْهِمُ (التوبة : ۷۳) جس کے معنے یہ ہیں کہ کفار اور منافقین کے مقابلے میں سخت رویہ اختیار کرو۔یہاں بھی اس پوری آیت کی رو سے یایھا النبی کہہ کر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نمونہ بتایا ہے۔میں اس مضمون کے متعلق ابھی مزید غور کر رہا ہوں۔میرا خیال ہے کہ جہاں بھی یااَيُّهَا النَّبِی کہہ کر کوئی حکم دیا گیا ہے وہاں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے۔کہ اس میں بڑا سخت حکم تھا۔ایک پابندی تھی اس سے گھبرانا نہیں تمہارے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ موجود ہے اس کی طرف دیکھ لینا۔وہ تمہارا سہارا بن جائے گا۔پس يَايُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكَفَارَ وَالْمُنْفِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ میں لفظ غلظ کے معنے ایسی سختی کے ہیں کہ جس کے اندر کوئی چیز اثر انداز نہ ہو سکے۔مثلاً اسپینج ہے۔یہ بھی نسبتا سخت ہے۔پانی کی