انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 238
۲۳۸ سورة التوبة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث کے ان کی صفیں بنالیتا تھا۔طریقہ یہ ہوتا تھا کہ درمیان لڑنے والوں کے درمیان سے وہ آگے بڑھتے تھے اور محاذ کو سنبھال لیتے تھے اور لڑنے والے پیچھے ہٹ جاتے تھے اور مسلمان فوج کا ہر سپاہی آٹھ گھنٹے لڑتا تھا۔کسری کا سپاہی ہر دو گھنٹے کے بعد تازہ دم آگے آتا تھا لیکن باوجود اس کے کہ کسری کے تازہ دم فوجیوں کا وہ مقابلہ کر رہے ہوتے تھے، آٹھ گھنٹے (اپنی زندگی کی حفاظت کی تو انہیں پرواہ نہیں تھی لیکن ) خدا کے نام پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان نثاری کا یہ مقابلہ تھا کہ آٹھ گھنٹے لڑتے چلے جاتے تھے۔کسی کے دل میں یہ خواہش ہو کہ وہ ان حالات میں آٹھ گھنٹے دشمن کا مقابلہ کرے، اس دشمن کا کہ ہر دو گھنٹے بعد تازہ دم فوج اس کے سامنے آ رہی ہے ، وہ اس وقت تک ایسا نہیں کر سکتا جب تک تیاری نہ کی ہو اس کے لئے یعنی آٹھ گھنٹے لگا تار تلوار چلانے کی مشق نہ کی ہو اور آٹھ گھنٹے تلوار چلانے کے بعد وہ تھکاوٹ محسوس نہ کرے مزید لڑائی کے لئے تیار ہو۔تو ایک تیاری تو اسلحہ خریدنے کی ہے دوسری تیاری اس اسلحہ کے استعمال کی ہے۔مسلمان کے لئے تیاری ایک ایسے استعمال کی تھی کہ اپنے سے کہیں زیادہ تعداد میں دشمن اور ہر دو گھنٹے بعد تازہ دم فوج کا مقابلہ، کبھی پانچ گنا زیادہ ان کی فوج انہی اٹھارہ ہزار کے مقابلہ میں جس کا مطلب یہ تھا کہ قریب ڈیڑھ گھنٹے کے بعد تازہ دم فوج سامنے آ گئی۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کہتے ہو کہ تڑپ بڑی تھی، ہم بھی پکے مومن ہیں مگر مجبوریاں ایسی آگئیں کوئی بچہ بیمار ہو گیا۔بہانہ جو طبیعت، گھر خطرے میں پڑ گیا، یہ ہو گیا وہ ہو گیا ور نہ پیچھے رہ نہ جاتے۔خدا کہتا ہے تم جھوٹ بولتے ہو اور دلیل یہ کہ اگر تمہیں خواہش ہوتی جہاد پر نکلنے کی تو اس کے لئے ہر ممکن تیاری کی ہوتی۔نہ تم نے اسلحہ پر مال خرچ کیا، نہ تم نے اسلحہ چلانے کی مشق کی ضرورت کے مطابق مشق مشق اتنی کہ، مثلاً میں نے تیراندازی کا نام لیا ابھی ، ایک بار جب خالد بن ولید ہی قیصر کی فوجوں کے خلاف لڑ رہے تھے تو دمشق کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔قیصر کی فوج کا جو کما نڈ رتھا اس نے جہالت سے مسلمان پر رعب ڈالنے کے لئے ، یہ نہ سمجھتے ہوئے کہ مسلمان پر رعب نہیں ڈالا جاسکتا کیونکہ وہ تو صرف خدا سے ڈرتا ہے، یہ منصوبہ بنایا کہ نوجوان لڑکیوں اور راہبوں، پادریوں کو فوجی لباس پہنا کے اور ہاتھ میں نیزے دے کر اور تلواریں لٹکا کے فصیل کے اوپر کھڑا کر دیا۔کئی ہزار مردوزن کو۔خالد بن ولید کی دور بین آنکھ مومنانہ فراست رکھنے والی تھی۔انہوں نے کہا اچھا میرے ساتھ مذاق