انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 230 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 230

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۳۰ سورة التوبة اگر تم اپنی اس فطری خواہش کو پورا کرنا چاہتے ہو تو تمہیں اُس پاک ذات سے تعلق قائم کرنا پڑے گا جو ہر لحاظ اور ہر جہت سے غیر محدود ہے اُس کی حد بست نہیں کی جاسکتی اور وہ اللہ ہے۔اِنَّ اللهَ عنْدَةٌ أَجْرٌ عَظِيمُ وہ اجرجس سے بڑھ کر کوئی اجر متصور نہیں ہوسکتا۔( یہ عظیم کے معنے ہیں ) جس کی عظمت اتنی بڑی ہے کہ کوئی اس کے مقابلہ پر نہیں آسکتا۔وہ جزا وہ کامیابی۔کامیابی کی وہ لذتیں اور سرور کہ جن سے بڑھ کر اور کسی چیز کا امکان نہیں جو ہماری عقلوں میں بھی نہیں آسکتے۔وہ اجر عظیم سوائے اللہ تعالیٰ کے جس کی قدرتوں کی حد بست نہیں کی جاسکتی اور کہیں سے حاصل نہیں ہو سکتا۔پس إِنَّ اللهَ عِنْدَةٌ أَجْرٌ عَظِيمٌ۔اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے کہ جس سے ہم غیر متناہی رفعتوں کو حاصل کر سکتے ہیں جو اگر ہم پر رحم کرے، اپنی رضا کی نگاہ ہم پر ڈالے، اپنی رضا کی جنتوں میں داخل ہونے کی ہمیں توفیق دے۔تو پھر ہمیں اجر عظیم مل سکتا ہے۔خطبات ناصر جلد سوم صفحه ۳۲ تا ۳۵) آیت ۳۳ هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ ليظهرة عَلَى الدِّينِ كُلِهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عالمین کے لئے رحمت ہیں اور آپ کا دین باقی ادیان پر غالب آئے گا۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعثت کے پہلے دن ہی سے عالمین کے لئے بطور رحمت کے ہیں اور قیامت تک بطور رحمت کے ہیں اور پہلے دن سے ہی یہ مقدر تھا کہ دینِ اسلام تمام ادیان باطلہ پر اپنے حسن و احسان کے ذریعہ سے غالب آئے گا لیکن یہ ایک دن کا کام نہیں تھا یہ صدیوں کا کام تھا چنانچہ پہلے دن سے ہی ایک عظیم مجاہدہ کی ابتدا ہوئی اور یہ مجاہدہ پھیلاؤ میں بڑھتا چلا گیا اور اس کی ترقی کی حرکت میں شدت پیدا ہوتی چلی گئی اور پیار کے ساتھ اور دلائل قاطعہ کے ساتھ اور حج ساطعہ کے ساتھ اور آسمانی نشانوں کے ساتھ اور قبولیت دعا کے نشانوں کے ساتھ دنیا کے دل میں آہستہ آہستہ ایک انقلاب پیدا کرتا رہا۔ایک نسل کے بعد دوسری نسل یہ ذمہ داری اٹھاتی رہی اور اس مہم کو آگے بڑھاتی رہی۔آخر تیرہ صدیاں گزرنے کے بعد اس مہدی کا ظہور ہوا جس کے متعلق تمام بزرگوں نے