انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 226 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 226

۲۲۶ سورة التوبة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث محض یہ کہنا کہ ہم آخرت پر ایمان لائے ہیں کافی نہیں۔ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آخرت کا کیا مفہوم قرآن کریم نے ہمارے سامنے رکھا ہے۔اس پر ہمارے لئے ایمان لانا ضروری ہے محض یہ کہہ دینا کہ ہم رُسل پر ایمان لائے ہیں یہ کافی نہیں ہے کیونکہ بے چارے معصوم رُسل تو ایسے بھی تھے جن پر ہر قسم کی تہمت ان کے اپنے ماننے والوں نے لگادی پس ان اشیاء پر، ان تہمتوں پر، ان الزاموں پر، اس افتراء پر ہمارے لئے ایمان لانا ضروری نہیں ہے۔رسل پر اس معنی میں ایمان لانا ضروری ہے جو قرآن نے ہمارے سامنے رکھا ہے ان کی وحی پر اس معنی میں ایمان لانا ضروری ہے جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا اس معنے میں ضروری ہے اور اس مقام ارفع پر ایمان لانا ضروری ہے جو مقام کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ہمیں بتایا ہے۔خود قرآن عظیم پر وہ ایمان لانا ضروری ہے جو خود قرآن کہتا ہے کہ مجھے پر اس طرح ایمان لاؤ محض یہ کہہ دینا کہ ہم قرآن کریم پر تو ایمان لاتے ہیں لیکن اپنے اقتصادی مسائل کے حل کے لئے ہم امریکہ جائیں گے تو یہ قرآن کریم پر ایمان کوئی نہیں کیونکہ اگر قرآن کریم پر وہ ایمان ہو جو قرآن کریم کہتا ہے مجھ پر رکھو، جو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ قرآن کریم پر رکھو تو پھر یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور وہی حقیقی ایمان ہے۔قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں یہ دعویٰ کیا کہ یہ ایک کامل اور مکمل کتاب ہے۔اگر ہماری زندگی کا کوئی ایسا مسئلہ ہو کہ جس کو سلجھانے کے لئے ہمیں قرآن کریم کی بجائے امریکہ یا روس کے پاس جانا پڑے تو ہمیں یہ اعلان کرنا پڑتا ہے یوں زبان سے نہیں کہیں گے لیکن عملاً ہم یہ اعلان کر رہے ہوں گے کہ (نعوذ باللہ ) قرآن کریم کامل نہیں ، ناقص ہے اور اس نقص کو دُور کرنے کے لئے قرآن عظیم کو چھوڑ کر ہمیں امریکہ جانا پڑا یا روس جانا پڑا۔پس قرآنِ عظیم پر محض زبانی ایمان کافی نہیں اس رنگ میں اور اس طور پر ایمان لانا ضروری ہے جو خود قرآن عظیم نے کہا ہے کہ اس طرح مجھ پر ایمان لاؤ یہی حال ایمان بالآیات اور ایمان بالغیب کا ہے پس جہاں جہاں بھی ایمان بالی" کا سوال ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فلاں پر ایمان لاؤ وہ ہمیں خود قرآن کریم سے تلاش کرنا پڑے گا کہ کس معنے میں یہ کہا گیا ہے کہ ایمان لاؤ۔۔۔۔۔۔لفظ ایمان جب عام ہو بغیر صلے کے وہ یہ تقاضا کرتا ہے کہ قرآنِ کریم سے نکال کر دیکھا جائے