انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 221
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۲۱ سورة التوبة اشاعت اسلام کے لئے اپنے اموال کو خرچ کرنا۔قرآن کریم نے جہاد کو تین بنیادی معنوں میں استعمال کیا ہے۔اپنے نفس کو پالش کرنا یعنی ساری بُرائیوں کو پاک کر کے۔وہ پاک ہے خدا تعالیٰ پاک ہے نا اور پاک کو پسند کرتا ہے۔پاکیزگی میں اس جیسا بننے کی کوشش کرنا انسان خدا نہیں بن سکتا یہ درست ہے لیکن انسان بنے کی کوشش کر سکتا ہے۔اس کے دل کی یہ تڑپ جو ہے وہ خدا تعالیٰ کو پسند آتی ہے۔خدا کہتا ہے میرا یہ عاجز بندہ جو میری عظمت اور پاکیزگی ہے اس کے اربویں حصے تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔طاقت ہی نہیں اس کو میرے مقابلے میں لیکن دل میں ایک جلن ہے، ایک آگ ہے، ایک تڑپ ہے، ایک لگن ہے وہ کہتا ہے میں بھی اپنے خدا کی طرح پاک بن جاؤں۔خدا تعالیٰ کو وہ جو اس کی لگن اور تڑپ ہے اور جو نیت ہے، جو کوشش اس کے لئے وہ کر رہا ہے وہ پسند آتی ہے۔بعض استاد کسی زمانے میں پرچے تول کے نمبر دے دیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ پرچے تول کے نمبر نہیں دیتا۔اللہ تعالیٰ تو اخلاص پر نگاہ رکھتا ہے اور اپنے پیار سے اٹھا کے اور اپنی گود میں رکھ لیتا ہے۔اتنی عظیم بشارتیں ہیں۔بشارت کا لفظ بھی یہاں استعمال ہوا ہے لیکن انذار کا پہلو بھی ہے اگر تم ہجرت اپنے پورے معانی میں جو ہجرت کے ہیں جو خدا تعالیٰ نے بیان کئے ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اوپر روشنی ڈالی ہے، آپ کے اُسوہ میں وہ چیز ہمیں نظر آتی ہے، اس کے مطابق ہجرت نہیں کرو گے اگر اس کے مطابق جہاد نہیں کرو گے۔میں بتا رہا تھا تین معنے ہیں ایک نفس کے خلاف جہاد۔ایک قرآن کریم کو ہاتھ میں پکڑ کے ساری دنیا میں قرآن کریم کے نور کو پھیلانے کی کوشش وہ بھی قرآن کریم کی اصطلاح میں جہاد ہے اور ایک اس انجان نا سمجھ کے خلاف جہاد جو خدا تعالیٰ کی پیاری قوم کو مادی طاقت سے مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ تمہارے ہاتھ میں ٹوٹی ہوئی تلواریں بھی ہوں گی تو کوئی پرواہ نہ کرنا میرے نام کے اوپر کھڑے ہو جانا جیسا کہ میں مثالیں دے کر پہلے آپ کو بتا چکا ہوں۔بہر حال یہ سارے اعمالِ صالحہ کے اوپر ہجرت اور جہاد کا لفظ احاطہ کئے ہوئے ہے۔بشارت خدا تعالیٰ کی رحمت کی دی اور شرطیں۔(خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۲۰۹ تا ۱۲۱۱) اگر اقتدار کا جنون سوار ہو تو ایسا انسان تمام حقوق پامال کرتا چلا جاتا ہے اور کہیں اسے قرار نہیں آتا لیکن جب فطرت صحیحہ ہو اور حقیقی خوشی اور لذت اللہ تعالیٰ کے قرب میں پائی جائے تو انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ سے زیادہ تقرب حاصل کرتا چلا جائے۔دُنیا کی دولتیں اور دُنیا