انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 211
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۲۱۱ سورة الانفال کمانے اور دنیا کی عزّت حاصل کرنے کے تمام راستے ان پر بند کر دیئے جائیں گے۔تو جن لوگوں پر اُحْصِرُوا فی سَبِیلِ اللہ کا اطلاق ہوتا ہے وہ بھی مجاہدین ہیں۔ایک قسم کا مجاہدہ اور جہاد کرنے والے ہیں۔اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ لوگ جن پر دشمن، مخالف ، منکر دنیا کی راہیں بند کر دیتا ہے۔آئے دن ہمارے سامنے ایسی مثالیں آتی رہتی ہیں کہ بعض لوگ بعض احمد یوں کو صرف احمدیت کی وجہ سے نوکری نہیں دیتے یا امتحانوں میں اچھے نمبر نہیں دیتے کہ وہ ترقی نہ کر جائیں۔یا اگر تاجر ہیں تو ان کی تجارت میں روک ڈالتے ہیں۔اگر زمیندار ہیں تو طرح طرح سے ان کو تنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔خصوصاً جہاں نئے احمدی ہوں اور تعداد میں بھی تھوڑے ہوں وہاں اس قسم کا سلوک اکثر کیا جاتا ہے۔ایسے لوگوں پر خدا کے لئے دنیا کی تمام راہیں اگر بند ہو جائیں تو قرآنی محاورہ کے مطابق وہ اُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللہ کے گروہ میں شامل ہوتے ہیں۔دوسری قسم مجاہدہ کی انفاق فی سبیل اللہ ہے۔جو آیات میں نے پڑھی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ دنیا میں نے تمہیں دی ہے۔چاہو تو دنیا کا ایک حصہ خرچ کر کے مجھے حاصل کر لو میری محبت کو پالو اور اگر چاہو تو دنیا کے کیڑے بن کر میری لعنت، میرے غضب اور میرے قہر کے مورد بن جاؤ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انفاق پر بڑا زور دیا ہے انفاق فی سبیل اللہ کی کوئی حد بندی نہیں البتہ انفاق کی بعض قسموں کی حد بندیاں ہیں۔مثلاً زکوۃ ایک خاص شرح کے مطابق دی جاتی ہے لیکن عام صدقات کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کوئی شرح مقرر نہیں فرمائی۔اسی طرح اس کے علاوہ خدا تعالیٰ کے دین کی تقویت کے لئے حسب ضرورت جو اموال مانگے جائیں ان کے لئے کوئی شرح مقر ر نہیں ہر آدمی پر فرض ہے کہ وہ اپنی ہمت کے مطابق اور حالات کی نزاکت کے مطابق خدا کی راہ میں اپنے مال کا جتنا حصہ وہ مناسب سمجھتا ہے خرچ کرے۔جیسا کہ ایک وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ ارشاد فرمایا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے دین کو تمہارے مالوں کی ضرورت ہے۔تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اندازہ لگایا کہ یہ موقع اتنا نازک ہے کہ میرا فرض ہے۔کہ میں اپنا سارا مال لا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر ڈال دوں مگر