انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 206
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۰۶ سورة الانفال ساتھ انذار ہے۔وہی جو دوسری جگہ ہے میں نے بتایا ہے نا کہ دراصل وہ سارے اعمال کو یعنی جو کہ کرنے کے ہیں ان کی اطاعت کرنا۔اس اطاعت میں انتہائی توجہ اور انتہائی زور لگا کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا نمونہ ظاہر کرنا۔الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ الله - (التوبۃ :۲۰) انتہائی کامیابی جس کا میں نے ترجمہ کیا تھا۔یہ بشارت ہوگئی نا أَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ و الله أوليكَ هُمُ الْفَابِزُونَ کا میابی بڑی ہے۔يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ ان کو بشارت دو۔یہ ساری بشارتیں ہی ہیں جس کو میں نے کہا تھا نا بشارت۔آپ میں سے کسی کا دماغ ادھر نہ چلا جائے کہ وہ تو جزا ہے۔کوئی جزا نہیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ (التوبة :٢١) خدا تعالیٰ اپنی رحمت کی انہیں بشارت دیتا ہے۔رضوان اور اپنی رضا کی انہیں رحمت دیتا ہے۔وَجَنَّتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمُ (التوبة : ۲۱) ابدی نعماء والی جنتوں کی انہیں بشارت دیتا ہے۔جن میں وہ ہمیشہ رہتے چلے جائیں گے۔اور خدا تعالیٰ بڑا اجر دینے والا ہے لیکن هَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ انْفُسِهِمْ یہاں جہاد کے معانی کا تجزیہ کر کے اس کو کھول کے بیان کر دیا ہے، اپنے اموال سے اور اپنے نفسوں سے یعنی خدا تعالیٰ کے لئے اپنے نفوس کی تہذیب کرنا، انہیں پالش کرنا اور خدا کی ملت اسلامیہ اور اشاعت اسلام کے لئے اپنے اموال کو خرچ کرنا۔قرآن کریم نے جہاد کو تین بنیادی معنوں میں استعمال کیا ہے۔اپنے نفس کو پالش کرنا یعنی ساری بُرائیوں کو پاک کر کے۔وہ پاک ہے خدا تعالیٰ پاک ہے نا اور پاک کو پسند کرتا ہے۔پاکیزگی میں اس جیسا بننے کی کوشش کرنا انسان خدا نہیں بن سکتا یہ درست ہے لیکن انسان بننے کی کوشش کر سکتا ہے۔اس کے دل کی یہ تڑپ جو ہے وہ خدا تعالیٰ کو پسند آتی ہے۔خدا کہتا ہے میرا یہ عاجز بندہ جو میری عظمت اور پاکیزگی ہے اس کے اربویں حصے تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔طاقت ہی نہیں اس کو میرے مقابلے میں لیکن دل میں ایک جلن ہے، ایک آگ ہے، ایک تڑپ ہے، ایک لگن ہے وہ کہتا ہے میں بھی اپنے خدا کی طرح پاک بن جاؤں۔خدا تعالیٰ کو وہ جو اس کی لگن اور تڑپ ہے اور جو نیت ہے، جو کوشش اس کے لئے وہ کر رہا ہے وہ پسند آتی ہے۔بعض استاد کسی زمانے میں پرچے تول کے نمبر دے دیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ پرچے تول کے نمبر نہیں دیتا۔اللہ تعالیٰ تو اخلاص پر نگاہ رکھتا ہے اور اپنے پیار سے اٹھا کے اور