انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 205
۲۰۵ سورة الانفال تفسیر حضرت خلیفہ امسیح الثالث ہجرت کے معنی ہیں ہر اس چیز کو چھوڑ دینے کے جسے چھوڑنے کا خدا نے حکم دیا ہو۔اس معنی کی طرف زیادہ تر توجہ ہمارے جو صوفیاء مفسر ہیں ان کی گئی ہے۔وہ بہت سارے تو دوسری طرف آتے ہی نہیں۔وہ اپنے ہی معنی کر جاتے ہیں لیکن وہ بھی معنی ہیں۔جس نے خدا کی خاطر مکہ جیسے شہر کو چھوڑا، اپنی جائیدادیں ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیں۔ہمیشہ کے لئے میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ فتح مکہ کے بعد بھی ان جائیدادوں کو واپس لینے کا کوئی Claim نہیں کیا انہوں نے۔اسی طرح واپس آگئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ، بڑاز بر دست واقعہ ہے وہ بھی۔تفصیل بتا ئیں گے تمہیں یہاں کہیں۔اور وہ بھی ہجرت ہے لیکن ہر وہ چیز جس سے خدا منع کرتا ہے اس کو چھوڑ دیناوہ بھی ہجرت ہے۔اس کو چھوڑ دو۔اس آیت میں بنیادی طور پر دراصل سارے اعمالِ صالحہ کو Cover کیا ہے ان کے متعلق بات کی ہے۔جس چیز کو خدا منع کرتا ہے اس سے باز آؤ۔ہجرت کرو۔وَجْهَدُوا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ اور جس چیز کے کرنے کا حکم دیتا ہے اس کے لئے پوری سعی کرو۔محض سعی نہیں جہاد کے معنے ہوتے ہیں انتہائی کوشش کر دینا۔ہر شخص اپنی استعداد اور طاقت کے مطابق پوری کوشش کرے خدا تعالیٰ کی اطاعت میں اس کے احکام کو پورا کرنے میں اور اس کی آگے پھر تفصیل کیونکہ بُنْيَان مرصوص (الصف:۵) بنانا تھا کہ تمہیں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیئے۔ایک دوسرے کی پناہ بننا چاہیئے دوسروں کے دکھوں کا مداوا بنا چاہیئے۔أُولَبِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا یہ ہیں سچے مومن۔نام کے مومن تو بہت سارے ہوتے ہیں لیکن قرآن کہتا ہے یہ سچے مومن ہیں۔انہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے مغفرت ہے۔انسان ہے بشری کمزوریاں ہیں غلطی کرے گا ہزار جگہ اور اگر تو بہ کرے گا تو وعدہ ہے اس کے ساتھ کہ خدا تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا اور مغفرت کے سامان پیدا کرے گا اور اس کی ہر ضرورت پوری کرے گا وَ رِزْقی کریم۔دوسری جگہ بشارتیں دیں انتہائی کامیابی تمہیں ملے گی تمہاری کوششوں کا بہترین نتیجہ نکلے گا اپنے رب کریم کی طرف سے تمہیں عظیم الشان رحمت نصیب ہوگی۔خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کا پیار تمہیں ملے گا۔دائمی نعمتوں والی جنتیں تمہارے نصیب میں ہوں گی۔یہ ساری بشارتیں ہیں نا۔انتہائی کامیابی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم الشان رحمت کا ملنا اس کا راضی ہوجانا۔اس کے پیار کا حاصل ہو جانا۔ایسی جنتوں کا ، رضا کی جنتوں کا ملنا جو دائمی ہیں جو ایک دفعہ مل جائیں پھر چھینی نہیں جاتیں لیکن