انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 204
تفسیر حضرت خلیفہ امسیح الثالث ۲۰۴ سورة الانفال وہ آواز آپ کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی وہ آواز تھی۔اسی لئے دوست بڑی کثرت سے آتے ہیں۔ظاہری طور پر بڑا دکھ اٹھا کے اور بڑی قربانی دے کر آتے ہیں اور ہر قسم کی کوفت اور تکلیف یہاں برداشت کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں لیکن ہم انہیں جو سہولت اور آرام پہنچا سکیں وہ تو ہمیں پہنچانا چاہئے (ربوہ کے رہنے والوں کو ) اوو او نَصَرُوا کے ماتحت !!! (خطبات ناصر جلد اول صفحه ۹۸۸ تا ۹۹۰) کو) وَ ایک دوسری جگہ مومنوں کو بشارت ملی مغفرت کی۔لا تقنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ ۖ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا (الزمر : ۵۴) بڑی زبر دست بشارت ہے رزق کریم کی۔یہ کریم جو میں نے سٹڈی (Study) کیا ہے کریم کے لفظ کے معانی کو ، یہ ہر شخص کے مزاج کے مطابق اور طبیعت کے مطابق معنی دیتا ہے۔تو رزق کریم نوعی لحاظ سے جو انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے والا رزق ، جو انسان کی زندگی کے مختلف مراحل میں اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا رزق مثلاً دو مہینے کے بچے کے لئے دودھ جو ہے ماں کا وہ رزق کریم ہے۔اس کی حالت کے مطابق ہے اور اس کے لئے اگر آپ نہایت اچھا پکا ہوا پاکستان کا بہترین باور چی جو ہے وہ موٹا پلا ہوا چوزہ جو ہے پکا کے دو مہینے کے بچے کے منہ میں ٹھونسے تو وہ رزق تو ٹھیک ہے لیکن وہ کریم نہیں ہے اس کے لئے ، طیب نہیں ہے اس بچے کے لئے۔تو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ جیسے جیسے تمہارے حالات بدلتے جائیں گے تمہارے حالات کے مطابق میں تمہاری ضروریات پوری کرنے کا سامان پیدا کرتا چلا جاؤں گا۔رزق کے معنی صرف کھانا ہی نہیں ہے بلکہ ضروریات پورا کرنے کا سامان تمہیں دیتا چلا جاؤں گا لیکن ساتھ انذار بھی ہے اتنا زبردست ، مغفرت بھی ہے۔حالات کے مطابق تمہیں ہر چیز میسر بھی آجائے گی۔انذار ہے یہ کہ اگر تم ہجرت نہ کرو ہمارے حکم کے مطابق اور جہاد میں حصہ نہ لو اور مومن بھائیوں کو پناہ نہ دو اور بھائی بھائی کی مدد نہ کرے اور اس طرح تم سچے مومن نہ بنو یعنی قرآن کریم نے بھی مومن مومن میں فرق کر کے ایک جگہ خالی مومن کہا ہے۔ایک جگہ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا کا لفظ ہے اسی آیت میں جو میں پڑھ رہا ہوں۔یہ فرق خود قرآن کریم نے کیا ہے۔سچے مومن نہ بنو تو یہ بشارت تمہارے حق میں پوری نہیں ہوتی۔فرمایا: وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ أَوَوا وَ نَصَرُوا أُولَبِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمُ - ہجرت کے معنی محض اپنے گاؤں کو یا شہر کو یا اپنی جائیداد کو چھوڑ کے دوسری جگہ منتقل ہونے کے نہیں