انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 12
سور ورة المائدة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث باعث بن سکے اور یہی حال دوسرے انبیاء کا بھی تھا لیکن جب قرآن کریم نازل ہوا تو اس وقت انسان کی استعداد میں بحیثیت انسان اپنے کمال کو پہنچ چکی تھیں اور قرآن کریم مختص القوم اور مختص الزمان کی حیثیت سے نہیں بلکہ تمام قوموں اور تمام زمانوں کے لئے تعلیم اور ہدایت لے کر دنیا کی طرف آیا تعلیم کے لحاظ سے کامل تعلیم اور اثر کے لحاظ سے کامل تکمیل لے کر آیا یعنی اس نے انسان کی جو تربیت کرنی تھی اور اس کی تکمیل کرنی تھی وہ بھی کمال کی تھی۔غرض قرآن کریم تمام قوموں اور تمام زمانوں کی تعلیم اور تکمیل کے لئے آیا اور ایسے زمانہ میں آیا جب کہ انسان کی استعداد میں اپنے کمال کو پہنچ چکی تھیں۔ایک طرف انسان کی استعداد اپنے کمال کو پہنچ چکی تھی اور دوسری طرف زمین بھی گناہ اور بدکاری اور مخلوق پرستی سے بھر گئی تھی اور اس کے لئے اصلاح عظیم کی ضرورت تھی۔انسان کی استعداد قرآنی تعلیم کی حامل ہوسکتی تھی مگر وہ خدا سے اتنی دور جا پڑی تھی کہ گویاز مین پر ایک فساد عظیم بپا ہو چکا تھا۔اس فساد عظیم کو دور کرنے کے لئے ایک عظیم تعلیم کی ضرورت تھی۔ایک کامل اور مکمل ہدایت کی ضرورت تھی۔اس کے بغیر وہ فساد دور نہیں ہوسکتا تھا۔ساری دنیا میں فساد پھیلا ہوا تھا۔انسان کے دل میں اپنے پیدا کرنے والے رب سے دُوری اور بیزاری پائی جاتی تھی، گویا مشرق میں بھی اور مغرب میں بھی ، شمال میں بھی اور جنوب میں بھی فساد بر پا تھا۔اس لئے دنیا میں فساد مٹانے اور انسانی استعداد کو روحانی میدانوں میں آگے سے آگے بڑھنے اور روحانی رفعتوں کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے لئے کامل ہدایت کی ضرورت تھی پہلی ہدا یتیں اس کے لئے کافی نہ تھیں۔پس قرآن کریم کی کامل ہدایت آگئی جس سے انسانی استعداد کی کامل نشو ونما ہوئی اور دنیا سے فساد کا سدِ باب بھی ہو گیا۔اگر چہ پہلی تعلیمیں بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آئی تھیں لیکن کامل تعلیم قرآن کریم کی تعلیم ہے جو ہر لحاظ سے مکمل ہے۔خدا تعالیٰ نے اس کا نام اسلام رکھا اور اس طرح وَ رَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِینا کا اعلان کر دیا گیا۔تیسرا کمال کلام پاک کا یہ ہے کہ تُونِي أَكُلَهَا كُل حِينِ بِإِذْنِ رَبَّبها قرآنی تعلیم ہر وقت اور ہر آن اور ہر ایک کو اپنا پھل دیتی ہے۔باذن ربها میں بنیادی حقیقت کا اظہار بھی کر دیا کہ انسان کی ساری کوشش اور تدبیر بے نتیجہ ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت شامل حال نہ ہو لیکن انسان کی کامل تدبیر اور کامل کوشش ناممکن تھی خدا کی راہ میں اگر قرآن کریم نہ ہوتا کیونکہ یہ کامل ہدایت پر