انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 182
تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۱۸۲ سورة الانفال فرماتا ہے تمہارے بچے چاہے وہ تمہاری اطاعت کرنے والے ہوں۔تم سے پیار کرنے والے ہوں۔تمہاری عزت کرنے والے ہوں۔تب بھی وہ تمہارے لئے آزمائش اور فتنہ ہیں اور اگر وہ سرکشی کرنے والے، نافرمان اور تمہاری اطاعت نہ کرنے والے ہوں تب بھی وہ تمہارے لئے آزمائش اور فتنہ ہیں اور ان ہر دو صورتوں میں اس نے جو امتحان کا نصاب مقرر کیا ہے۔اس میں اگر تم کامیاب ہو جاؤ گے تو پھر تمہیں یہ خوشخبری دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس تمہارے لئے اجر عظیم ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس قسم کی ذمہ داریوں کو نبھانے کی توفیق عطا کرے۔خطبات ناصر جلد دهم صفحه ۲۴۳، ۲۴۴) تمہارے اموال اور تمہاری اولا دفتنہ ہیں اور پھر فرمایا ہے کہ اگر تم اس فتنہ سے بیچ جاؤ گے تو جواجر میں تمہیں دوں گا وہ بہت بڑا اجر ہے اور اس کا یہ مطلب ہے کہ اس دُنیا میں بھی میرے بندوں کے ذریعہ تمہیں اس کا اجر ملے گا اور اس اجر پر تم خوش ہو گے لیکن یہ اجر میرے اجر کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔گویا دونوں چیزیں جزا اور سزا ان آیات میں بیان ہو گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مرکز میں رہنے والوں کو بھی ان آیات میں مخاطب کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ الہی سلسلہ جاری ہوا اور تمہیں اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے کی توفیق دی۔لوگوں نے تمہاری بڑی مخالفت کی اور اس مخالفت سے بچنے کے لئے ہم نے یہ انتظام کیا کہ ایک مرکز قائم کر دیا فاؤ کم اور اس مرکز کے قیام کے ساتھ ایک كُم بِنَصْرِه ہم نے اپنی آسمانی تائیدات سے تمہاری مدد کی اور وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبت (النحل: ۷۳) تمہارے لئے دنیوی فوائد کا سامان کیا۔(خطبات ناصر جلد سوم صفحه ۱۹،۱۸) آیت ۳۰ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَ يُكَفِّرُ عَنْكُمْ سَيَأْتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ اللہ تعالیٰ اس مختصر سی آیت میں جو میں نے پڑھی ہے بڑا ہی لطیف مضمون بیان کرتا ہے کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لانے کا دعوی کرتے ہو۔جو یہ کہتے ہو کہ ہم نے اپنے رب کو ان پاکیزہ اور مقدس اور ا کامل اور مکمل صفات کے ساتھ مانا ہے جو اسلام نے اس کی پیش کی ہیں اور جو یہ دعوی کرتے ہو کہ اس کی بھیجی ہوئی آخری شریعت پر ہم ایمان لائے۔جو یہ دعویٰ کرتے ہو کہ ہم اس کے محبوب محمد رسول اللہ