انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 11 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 11

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة المائدة اس کی استعدادوں میں ایک تقویت پیدا ہورہی ہے۔کمال کی طرف ان کی حرکت ہے اور آدم کی نسل کے انسان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت اپنی فطری استعداد کو کمال تک پہنچا دیا تھا اس لئے انسان کی ہدایت کے لئے قرآن کریم نازل ہوا۔قرآن کریم ہی کے بعض حصے اس تعلیم پر مشتمل ہیں جو پہلوں کو دی گئی تھی۔گو یا خود قرآن کریم کی تعلیم کے بعض حصے ہی مختلف انبیاء کے وقتوں میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آئے ان کی فطری نشو و نما کے لئے کام کر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت انسانی فطرت کی استعداد اپنے کمال کو پہنچ چکی تھی اس لئے پورا قرآن کریم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔ایک طرف قوانین قدرت جو کائنات میں نافذ تھے ان کو مسخر کیا گیا انسان کی نشو و نما کے لئے اور اس کی بقا کے لئے اور اس کی قوتوں کی حفاظت کے لئے اور اس کی قوتوں میں جان پیدا کرنے کے لئے اور دوسری طرف انسان کو ایسی فطرت دی گئی اور ایسی استعداد دی گئی کہ ایک طرف وہ قوانین قدرت کے نتیجہ میں کائنات سے استفادہ کر رہی تھی۔اس سے خدمت لے رہی تھی اور دوسری طرف کلام پاک پر عمل کر کے خدا تعالیٰ کے زیادہ سے زیادہ قرب کے حصول کے لئے کوشش کر رہی تھی۔پس فَرْعُهَا فِي السَّمَاء کا ایک کمال تو یہ ہے کہ قانون قدرت کلام پاک کی تعلیم کا مؤید ہے اور اس کے کمال کو ظاہر کرنے والا ہے کیونکہ قانون قدرت کا کمال اور کلام پاک کا جو کمال ہے وہ ایک دوسرے کی عظمت کو ثابت کر رہے ہیں۔خدا تعالیٰ کا فضل اس کلام کے ساتھ مل کر ایک عجیب شان اس کی صفات کے جلووں کی انسان کے سامنے لے کر آتا ہے۔فَرعُهَا فِي السَّمَاءِ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ تعلیم آسمان کی رفعتوں تک پہنچ گئی یعنی اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے جیسا کہ میں نے ابھی اشارہ کیا تھا قرآن کریم سے پہلے جو تعلیمیں آئیں مختلف انبیاء کی طرف ان کے متعلق ایک بات واضح ہے اور وہ یہ کہ وہ مختص القوم اور مختص الزمان تھیں یعنی ہر نبی ایک خاص قوم کی طرف ایک خاص زمانہ میں آیا اور اس وجہ سے ان کی تعلیمات مجمل بھی تھیں اور ناقص بھی تھیں اس لئے کہ ابھی اس زمانے میں اس نبی کی جو امت تھی اس کی پوری نشو ونما نہیں ہوئی تھی یعنی جو پہلے نبی گزرے ہیں ان میں سے ہر ایک نبی کی استعدادا بھی کمال کو نہیں پہنچی تھی مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جو تعلیم تھی اس میں عام افادہ کی قوت نہیں پائی جاتی تھی کہ ساری دنیا کے انسان کے لئے وہ راہنمائی اور ہدایت کا