انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 181 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 181

۱۸۱ سورة الانفال تفسیر حضرت خلیفتہ المسح الثالث گا۔بالکل نہیں بلکہ مومن و کافر ہر دو کو ایک مقام پر لا کے کھڑا کیا۔ہر دو کے حقوق قائم کئے۔ہر دو کی ذمہ داریاں بتائیں اور کوئی فرق نہیں مسلم اور غیر مسلم کا جیسا کہ میں نے بتایا موحد اور غیر موحد کا کوئی فرق نہیں کہ جی مشرک ہے اس واسطے اس کے حقوق ہم نے تلف کر لیتے ہیں یہ کوئی نہیں ، نہ ان کو حق پہنچتا ہے حقوق کے تلف کرنے کا ، نہ کسی مسلمان کو حق پہنچتا ہے۔( خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۳۶۷ تا ۳۷۴) آیت ۲۹ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمُ فِتْنَةٌ وَ أَنَّ اللَّهَ عِندَةٌ أَجْرٌ عَظِيمٌ اللہ تعالیٰ ہمیں رشتہ ناطہ کرنے یا جائز طور پر اپنی نسل چلانے کی کوشش کرنے سے نہیں روکتا لیکن انَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ، وَ أَنَّ اللَّهَ عِنْدَةٌ أَجْرٌ عَظِیم مومنوں سے فرماتا ہے کہ تم اچھی طرح سے سمجھ لو کہ تمہارے اموال بھی اور اولاد بھی جو تمہیں دی جاتی ہے آزمائش اور امتحان ہے اور پھر ی امتحان معمولی امتحان نہیں کہ جس میں تم کامیاب ہو جاؤ تو کوئی معمولی سا انعام تمہیں ملے بلکہ ان الله عِندَةٌ أَجْرُ عَظیم اللہ تعالیٰ وہ قادر مطلق ذات ہے جو تمام طاقتوں کی مالک اور تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے۔وہ اپنے ان بندوں کو جو اس کی کامل اطاعت کرنے والے ہیں بڑا ہی اجر دیتا ہے۔اس لئے تمہیں چاہیے کہ اس امتحان میں جو تمہارے اموال اور اولاد کے ذریعہ لیا جائے۔کامیاب ہونے کی کوشش کرو۔فتنہ کے معنی صرف بُری چیز کے نہیں ہیں۔ہماری زبان میں یہ لفظ اچھے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا لیکن عربی زبان میں اس کے معنے آزمائش اور امتحان کے ہیں اور آزمائش اور امتحان جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔خیر یعنی اچھی سے اچھی چیز سے بھی لیا جاتا ہے اور ابتلاء مصیبت اور دکھ میں ڈال کر بھی لیا جاتا ہے۔جیسے فرمایا كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِ وَالْخَيْرِ فِتْنَةٌ (الانبياء:۳۶) وَاللهُ عِنْدَةٌ أَجْرٌ عَظِيمٌ (التغابن :۱۲)۔کہ ہر نفس نے ایک دن مرنا ہے اور اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا۔وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِ وَالْخَيْرِ۔ہم تمہیں مصائب اور دکھوں میں ڈال کر بھی تمہاری آزمائش کریں گے اور تم پر دنیوی اور روحانی انعامات کر کے بھی تمہیں امتحان میں ڈالیں گے۔پس جیسا کہ اللہ تعالیٰ