انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 177 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 177

162 سورة الانفال تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث خیانت کہا جاتا ہے اور نفاق کا لفظ جو ہے وہ ان کے متعلق بولا جاتا ہے۔منافق کے معنے ہیں مذہب کے لحاظ سے عقائد کے لحاظ سے اپنے دعوئی کے لحاظ سے، اپنے اعمال کے لحاظ سے نفاق کی بُو ر کھنے والا وہ لکھتے ہیں کہ پھر یہ آپس میں دونوں مل جاتے ہیں خیانت اور نفاق اور خیانت کے معنے ہیں حق اور صداقت کی مخالفت کرنا۔عہد کو توڑ کے اور چھپ کے اور یہ امانت کے مقابلے میں آتی ہے۔ان آیات سے جو میں نے ابھی پڑھی ہیں مندرجہ ذیل باتوں کا ہمیں پتا لگتا ہے۔اول یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی خیانت نہ کرو اور خیانت امانت کی ضد ہے جیسا کہ ابھی میں نے بتا یا اور امانت کے معنی ہیں مَا فَرَضَ اللهُ عَلَى الْعِبَادِ امانت کے ایک معنی یہ ہیں۔سو جب یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کی خیانت نہ کرو تو یہ حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرض عائد کئے ہیں اپنے بندوں پر ان فرائض کو ان ذمہ داریوں کو پورا کرو۔ان عہدوں کو جو تم سے لئے گئے ہیں، نبا ہو۔ان حقوق کو جو قائم کئے گئے ہیں تم قائم کرو اور خدا تعالیٰ کے بندوں میں تفریق نہ کرو۔اور دوسرے ہمیں یہ فرمایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت سے پیش نہ آؤ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو عہد لیا گیا ہے ہم سے اور جو ہم پر فرض کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جو اُسوہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے سامنے پیش کریں اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارو۔ہر وہ شخص جو اُسوہ نبوی کو چھوڑ دیتا ہے اور ان قدموں کے نشانوں کی پیروی نہیں کرتا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم ہیں وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت کرنے والا ہے۔پھر فرمایا کہ باہمی امانتوں میں خیانت نہ کرو و تَخُونُوا آمنتكم باہمی امانتوں کے متعلق جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔ان کے معنے فرض کے اور عہد کے ہیں اور آپس کے جو حقوق ایک دوسرے کے اللہ تعالیٰ نے قائم کئے وہ بنیادی طور پر اور اصولی لحاظ سے بہت سے ہیں جن میں سے آج میں نے چند ایک مثالیں آپ کو سمجھانے کیلئے منتخب کی ہیں۔باہمی امانتیں ہیں۔مال سے تعلق رکھنے والی تو فرمایا کسی کا مال نہ کھاؤ۔یہ بددیانتی ، خیانت اور امانت کے خلاف یہ فعل مختلف شکلوں میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ایک شخص اپنے مال کا ایک حصہ دوسرے کے پاس بطور امانت کے رکھ دیتا ہے۔اس کا فرض ہے کہ جب وہ مانگے اسے واپس دے۔ایک مال کا یہ حق ہے کہ خرید و فروخت کے وقت جتنا پیسہ جتنی رقم کوئی شخص دے اس کے مطابق اس کو