انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 176
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة الانفال ہو گے لیکن یہ اجر میرے اجر کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔گویا دونوں چیزیں جزا اور سزا ان آیات میں بیان ہوگئی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مرکز میں رہنے والوں کو بھی ان آیات میں مخاطب کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ الہی سلسلہ جاری ہوا اور تمہیں اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے کی توفیق دی۔لوگوں نے تمہاری بڑی مخالفت کی اور اس مخالفت سے بچنے کے لئے ہم نے یہ انتظام کیا کہ ایک مرکز قائم کر دیا۔فاؤکم اور اس مرکز کے قیام کے ساتھ ایک كُم بِنَصْرِہ ہم نے اپنی آسمانی تائیدات سے تمہاری مدد کی اور وَرَزَقَكُمْ مِّن الطيبت (النحل : ۷۳) تمہارے لئے دُنیوی فوائد کا سامان کیا۔(خطبات ناصر جلد سوم صفحہ ۱۷ تا ۱۹) آیت ۲۸ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَ تَخُونُوا امنتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ) اے مومنو! اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو اور نہ اپنی آپس کی امانتوں میں خیانت سے کام لو۔پھر سورہ نساء میں فرمایا :۔وَلَا تَكُن لِلْخَابِنِيْنَ خَصِيمًا (النساء :۱۰۶) پھر سورۃ انفال میں فرمایا اِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْخَارِنِينَ (الانفال: ۵۹) وَ لَا تَكُن لِلْخَاسِنِينَ خَصِيمًا خيانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑنے والا نہ بن۔ان کی طرف داری نہ کر۔اِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْخَابِنِيْنَ کیونکہ اللہ تعالی خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اگر تو ان کی طرف سے جھگڑے گا تو تو بھی انہی میں شامل ہو جائے گا۔وَ انَّ اللهَ لَا يَهْدِى كَيْدَ الْخَابِنِيْنَ (یوسف : ۵۳) اور یہ کہ خیانت کرنے والوں کی تدبیر کو ,, اللہ تعالیٰ کامیاب نہیں کرتا۔خیانت کے معنی مفردات راغب میں یہ بیان ہوئے ہیں کہ " الْخِيَانَةُ وَالتَّفَاقُ وَاحِدٌ إِلَّا أَنَّ الْحَيَانَةَ تُقَالُ اعْتِبَارًا بِالْعَهْدِ وَ الْأَمَانَةِ وَالتَّفَاقُ يُقَالُ اِعْتِبَارًا بِالدِيْنِ ثُمَّ يَتَدَاخَلَانِ فَالْخِيَانَةُ مُخَالَفَةُ الْحَقِّ بِنَقْضِ الْعَهْدِ فِي السَّرِ وَنَقِيضُ الْخِيَانَةُ الْأَمَانَةُ (المفردات: زير لفظ الغاء) خیانت اور نفاق ملتے جلتے ہیں اپنے معنی کے لحاظ سے اور عہد توڑنے اور ان میں خیانت کرنے کو