انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 172 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 172

۱۷۲ سورة الانفال تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث نام لے کر، اس کی عظمتوں کا کلمہ پڑھ کے اسے جل جلالہ، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان کر اسلام میں داخل ہوتے ہیں ، اتنے ہی درجات ہیں جتنے افراد ہیں۔لیکن وہ ایک بار یک مسئلہ ہے جسے سمجھانے کے لئے میں یہ کہوں گا کہ جس طرح دنیا میں دو انسان کی شکل ایک نہیں اسی طرح روحانی طور پر کسی دوانسان کی روحانیت کا مقام بھی ایک نہیں۔اس میں بہت سی باتیں دخل انداز ہوتی ہیں جن کی تفصیل کی طرف اشارہ بھی اس وقت نہیں کیا جا سکتا۔درجہ بدرجہ ترقی کرتے ہوئے یہی لوگ ولحل دَرَجتْ مِمَّا عَمِلُوا) ایک مسلسل جد و جہد، ایک سعی، مجاہدہ ، ایک ہجرت ، (ہجرت مکانی نہیں ہجرت روحانی جو ہے کہ چھوٹے مقام کو چھوڑ کے بڑے کی طرف منتقل ہونے کی مقبول کوشش جس کے نتیجے میں ایک بلند مقام کی طرف ایک انسان منتقل ہو بھی جاتا ہے۔) اس مسلسل کوشش کے بعد ایک گروہ ایسا آگیا اولك هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا یہ جو گروہ ہے اس کی کیفیت اللہ تعالیٰ نے بلی مَنْ أَسْلَم والی آیت میں بیان کی ہے۔وہ آئیڈیل (Ideal) ہے۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۳۵۰،۳۴۹) آیت ۲۵ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمُ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَ أَنَّهُ إِلَيْهِ تحشرون جو شخص روحانی زندگی کے نتیجہ میں زندہ خدا سے زندہ تعلق قائم کرنا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی پیروی کرے قرآن کریم نے بڑی وضاحت سے یہ بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض کے ذریعہ ہی یہ روحانی زندگی حاصل کی جاسکتی ہے جیسا کہ سورۃ انفال میں فرمایا۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ - تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کو دعوت دے رہے ہیں تو اس کا مقصد یہی ہے کہ جو ان کی آواز پر لبیک کہے وہ روحانی زندگی کو حاصل کرے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انا الحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلى قَدَمِي ( صحيح البخاری کتاب المناقب باب ماجاء فی اسماء رسول اللہ) میں حاشر ہوں کہ ایک روحانی حشر برپا کرنے کے لئے مبعوث ہوا ہوں اور جو میرے