انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 10 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 10

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة المائدة جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد نمبر ۶ صفحہ ۱۲۵) ہے تو وہ اس بات کو ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم ان سب چیزوں کو اتفاق نہیں کہہ سکتے ضرور کوئی مد بر بالا رادہ ہستی ہے جس نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے۔اب میں پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حوالہ پڑھتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی یہ تمام مصنوعات اور یہ سلسلہ نظام عالم کا جو ہماری نظر کے سامنے موجود ہے یہ صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ یہ عالم خود بخود نہیں بلکہ اس کا ایک موجد اور صانع ہے جس کے لئے یہ ضروری صفات ہیں کہ وہ رحمان بھی ہو اور رحیم بھی ہو اور قادر مطلق بھی ہو اور واحد لاشریک بھی ہو اور ازلی ابدی بھی ہو اور مدبر بالا رادہ بھی ہو اور ستجمع جمیع صفات کا ملہ بھی ہو اور وحی کو نازل کرنے والا بھی ہو۔“ یہ اقتباس اپنے اندر ایک وسیع مضمون رکھتا ہے۔اس وسعت میں تو اس وقت نہیں جاؤں گا کسی اور موقع پر بیان کیا جاسکتا ہے۔قرآن کریم کے کمال کی دوسری بات یہ بتائی گئی کہ فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ایک تو یہ کہ اصولِ ایمانیہ لا إله إلا الله ایک ثابت شدہ حقیقت ہے جس سے کوئی سعید فطرت انسان انکار نہیں کر سکتا۔انسان کی فطرت کے اندر بھی یہ بات پائی جاتی ہے اور اس کائنات کا مطالعہ کرنے سے بھی مدلل طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ منتشر نہیں۔مثلاً ستارے ہیں ان میں کوئی مشرق کی طرف چل رہا ہوتا ہے اور کوئی مغرب کی طرف چل رہا ہوتا ہے مگر ان کو بھی ہر دوسری چیز کی طرح بعض معین نسبتوں میں باندھا گیا ہے۔دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ کا وہ قانون جو اس کائنات میں نافذ ہے اور قانونِ قدرت جو اس عالم میں کام کر رہا ہے جب ہم اس کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کلام پاک قانونِ قدرت کے ساتھ موافقت رکھتا ہے اور یہ بڑا لطیف مضمون ہے کہ خدا کا کلام اور خدا کا فعل اور خدا کے فعل کے نتیجہ میں انسانی فطرت جس کے لئے یہ کائنات بنائی گئی ہے ان تینوں میں ایک بڑا مضبوط رشتہ قائم ہے۔غرض اس کا ئنات میں جو قانون نافذ ہے اس کا کام یہ ہے کہ وہ انسان کی نشو و نما کرے یعنی کائنات کی ہر چیز کو ( مختلف اور بے شمار مخلوقات ہیں ان میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ اس نے اس طرح پر انسانی فطرت کی نشو و نما کرنی ہے اور اس طرح ان کے کام آنا ہے۔استعدادوں کو تقویت دینے والا اور وسعت دینے والا اور اس کمال کو پہنچانے والا یہ قانونِ قدرت خدا تعالیٰ نے بنایا ہے اور اس قانونِ قدرت کے عمل کے نتیجہ میں انسانی فطرت، انسانی قومی یا فطرت انسانی کے قومی اور