انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 171 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 171

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث سورة الانفال اعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الانفال آیت ۵ أُولَبِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجَتْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ۔قرآن کریم میں یہ بیان ہے کہ مومن، مومن میں بڑا فرق ہوتا ہے۔جو اسلام لاتے ہیں ان کی ابتدا تو اس نچلے مقام سے شروع ہوتی ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان کہہ لیا کرو۔وَ لَمَّا يَدُ خُلِ الْإِيْمَانُ في قُلُوبِكُم (الحجرات :۱۵) ابھی تمہارے دل ایمان سے خالی ہیں لیکن وہ مبتدی جن کی ابتدا یہاں سے شروع ہوتی ہے وہ درجہ بدرجہ روحانی میدانوں میں ترقی کرتے ہوئے آخر میں ایک ایسے مقام تک پہنچتے ہیں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا کہ وہ سچے اور پورے اور حقیقی مومن ہیں۔جو آیت میں نے ابھی تلاوت کی اس میں اس آخری رفعت کا ذکر ہے اور ان لوگوں کا ذکر اشارہ ہے کہ جن کا خاتمہ بالخیر اس مقام پر ہو جاتا ہے۔میں یہ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ یہ دنیا ابتلا اور امتحان کی دنیا ہے جہاں یہ ممکن ہے کہ ایک مبتدی کا روحانی میدان میں پاؤں پھسلے اور وہ روحانی طور پر شفا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ (ال عمران : ۱۰۴) آگ کے گڑھے میں گر جائے وہاں یہ بھی ممکن ہے کہ جو شخص روحانی ترقیات کرتے ہوئے بہت سی منازل طے کر کے کہیں کا کہیں آگے نکل جائے اس کے پاؤں میں بھی لغزش آئے اور خدا تعالیٰ کے دربار سے وہ دھتکارا جائے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلِكُلّ دَرَجتُ مِمَّا عَمِلُوا (الاحقاف:۲۰) جیسے جیسے کسی کے عمل، عمل صالح ہوں گے ویسے ویسے اس کا درجہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہوگا۔تو جتنے انسان خدا تعالیٰ کا