انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 170 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 170

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث 16۔سورة الاعراف میں کامل ہو اور جو اپنے مجاہدہ میں کوئی خامی اور نقص نہیں رکھتی۔پس اللہ تعالیٰ ولی تو ہے لیکن وہ ولی اس کا بنتا ہے جس نے اس کی کامل کتاب پر عمل کیا۔جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے غیروں کی گالیاں سنیں اور انہیں برداشت کیا۔جس نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کے لئے غیروں کے ظلم سہے اور اُف نہ کی اور ظلم کے مقابلہ میں ظالمانہ راہوں کو اختیار نہیں کیا بلکہ یہ سمجھا کہ ظلم کو روکنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک بند بنایا ہے۔ظلم اس بند سے ٹکرائے گا اور واپس چلا جائے گا۔میں ظلم کو مکان اور زمان کے لحاظ سے آگے نہیں بڑھنے دوں گا سارے ظلم اپنے پر سہہ لوں گا اور دوسروں کو ظالمانہ سازشوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کروں گا۔میں ظلم کے مقابلہ میں ظلم نہیں کروں گا بلکہ میں ظلم کے مقابلہ میں محبت اور پیار اور ہمدردی اور غمخواری اور حسن سلوک اور عمل صالح اور قولِ سدید دکھاؤں گا اس لئے کہ میرا رب مجھ سے خوش ہو جائے اور مجھے اپنی پناہ میں لے لے اور حقیقی معنی میں وہ مجھے اپنا عبد اور غلام بنالے اور سچے طور پر وہ میرا آقا بن جائے۔وہ میرا حامی اور مددگار بن جائے اور میرے کاموں کی ذمہ داری اُٹھا لے تب میں دشمن کے ہر شر اور ہر منصو بہ اور ہر سازش اور ہر وار سے محفوظ ہو جاؤں گا۔اس صورت میں ہی میں ان سے محفوظ ہو سکتا ہوں اس کے بغیر اور کوئی چارہ نہیں۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۴۹۸ تا ۵۰۲)