انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 166 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 166

۱۶۶ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ہے۔اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ ایک دفعہ ایمان کا دعوی کر دیا پھر بشارتیں ہی بشارتیں ہیں، پھر خیر ہی خیر ہے، پھر خوشحالی ہی خوشحالی ہے، پھر اللہ تعالیٰ کی رضا ہی رضا ہے اور ہماری کوئی ذمہ داری نہیں، ہمارے اوپر کوئی پابندیاں نہیں ، گناہوں سے بچنے کے لئے ہم نے کوئی کوشش نہیں کرنی۔نیکیاں کرنے کے لئے ہم نے ہر قسم کی جد و جہد اور سعی نہیں کرنی۔یہ خیال غلط ہے۔اصولی طور پر خدا تعالیٰ نے جو لِقَومٍ يُؤْمِنُونَ مؤمن قوم کو جو بشارت دی وہ بڑی زبردست ہے وَ انْتُمُ الْأَعْلُونَ (ال عمران :۱۴۰) ہر شعبہ زندگی میں فوقیت تمہیں حاصل ہوگی۔اعلیٰ کا لفظ بولا ہے نا۔ہر شعبہ زندگی میں فوقیت تمہیں حاصل ہوگی یہ بشارت ہے مگر اس کے ساتھ میں نے قرآن کریم پر بڑا غور کیا ہر بشارت کے ساتھ انذاری پہلو ساتھ لگا ہوا ہے۔اس کے ساتھ ایک اندار ہے۔اِن كُنتُم مؤْمِنین اگر تم ایمان کے عملی تقاضوں کو پورا نہیں کرو گے تو یہ بشارت تمہارے حق میں پوری نہیں ہو گی۔الاخلون والی اور تیرہ چودہ سو سالہ اسلامی زندگی میں جو مسلمان ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی آپ تاریخ دیکھیں اس کے دونوں پہلو انذار کے بھی اور تبشیر کے بھی بڑے زبر دست طریقے پر پورے ہوئے۔ایمان کے تقاضے جہاں بھی پورے کئے گئے ، فوقیت بشارت کے مطابق لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ انہی کو حاصل ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی وہ تو اس زمانے کا تو ہرلمحہ اس کی تائید کر رہا ہے کیونکہ آپ کی تربیت میں صحابہ رضی اللہ عنہم تھے وہ تقاضوں کو پورا کر رہے تھے ایمان کے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قیادت کر رہے تھے۔ہر وقت ان کی رہنمائی تھی۔جس وقت انتہائی دکھوں کی زندگی تھی ان دکھوں میں سے کامیاب نکلے۔تیرہ سالہ زندگی کے دکھ اٹھا کے پھر چند سال میں سارے عرب پر غالب آجانایہ کوئی معمولی معجزہ نہیں ہے۔ایسا معجزہ ہے جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی کہ کسی قوم کو تیرہ سال تک اس طرح پیسا گیا ہو کی زندگی میں اور آٹھ سال تک حملہ آور ہو کر اس طرح کوشش کی گئی ہو ان کو نیست و نابود کرنے کی اور پھر بیس سالہ اس ظالمانہ کوشش کا نتیجہ اسلام کی موت نہیں بلکہ مسلمان کی زندگی کی شکل میں ظاہر ہوا۔( خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۲۰۲ تا ۲۰۴) آیت ۱۹۷ إِنَّ وَلِي اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَبَ * وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّلِحِينَ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اِنَّ وَلی کے اللہ ایک مومن کا مقام یہ ہے کہ وہ مظلوم