انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 165 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 165

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۶۵ سورة الاعراف پیروی کرنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب ہوتی ہے۔سورۃ الانعام آیت ۱۵۱ میں اس مضمون کو بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص اہوائے نفس کی اتباع کا ، پیروی کا مرتکب ہوگا اتنا ظلم کر رہا ہوگا اپنے نفس پر کہ اللہ تعالیٰ نے جو آیات اس کی بہتری کے لیے نازل کی ہیں ان کی وہ تکذیب کر رہا ہے۔اہوائے نفس کی پیروی تکذیب آیات باری ہے۔یہ اعلان کیا گیا ہے۔آیات جو ہیں قرآن کریم میں دو معنی میں استعمال ہوئی ہیں۔دنیوی انعامات مثلاً ایٹم کے ذرے میں وہ طاقت جو آج انسان نے معلوم کی اور روحانی انعامات جو اللہ تعالیٰ نازل کرتا ہے اور فرمایا ہے کہ موسلا دھار بارش کے قطروں کی طرح میری آیات ، انعامات جو ہیں ،نعماء جو ہیں وہ تم پر نازل ہو رہی ہیں۔ہر آیت کا انکار ہو رہا ہے۔ایٹم کے ذرے ہی کو لو جو انسان کی بھلائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے تخلیق کی اسے انسان کی تباہی کے لیے استعمال کرنے کے ہتھیار بنالئے۔تو اہوائے نفس کا نتیجہ تکذیب آیات اور ناشکری آیات باری کی ہے۔( خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۳۰۰،۲۹۹) آیت ۱۸۸ قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَ لَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ و لو كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءِ إِنْ أَنَا الا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح نذیر ہیں کافر کے لئے اس طرح بشیر بھی ہیں کافر کے لئے اور یہ خیال بھی غلط ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے لئے محض بشیر ہیں جو اعلان کرتا ہے کہ میں آپ پر ایمان لایا اور آپ کے رب پر ایمان لایا۔آپ بشیر بھی ہیں اس کے لئے اور نذیر بھی ہیں اس کے لئے یعنی جس طرح کافر کے لئے نذیر اور بشیر ہیں اسی طرح مومن کے لئے بھی نذیر اور بشیر ہیں۔قرآن کریم بھرا پڑا ہے اس مضمون کے ساتھ اور ایک آیت میں نے اٹھائی ہے جس میں صاف، بالکل وضاحت کے ساتھ یہ ہے کہ مومنوں کے لئے آپ نذیر بھی ہیں اور بشیر بھی ہیں۔قرآن کریم میں ہے۔إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ کہ میں صرف نذیر اور بشیر ہوں مومن قوم کے لئے۔تو یہ خیال کہ مومنوں کے لئے محض بشیر اور نذیر نہیں اور کافروں کے لئے محض نذیر اور بشیر نہیں یہ غلط