انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 164 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 164

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۶۴ سورة الاعراف آیت ۱۷ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَهُ بِهَا وَلَكِنَّةَ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَونَهُ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ذَلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِأَيْتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ اس مضمون کے تعلق میں (اہوائے نفس یا خواہشات نفس یا شہوات نفس ایک ہی چیز ہے ) پہلی چیز یہ بتائی گئی ہے کہ روحانی رفعتوں کے حصول سے شہوت نفس یا اہوائے نفس محرومی کا باعث بن جاتی ہیں۔خدا تعالیٰ نے سورۃ الاعراف کی آیت ۱۷۷ میں بیان کیا ہے۔وکوشتنا اگر ہم چاہتے تو اسے رفعتیں اور بلندیاں عطا کرتے۔اس کے یہ معنی بھی ہیں ( تلاوت کرتے ہوئے میرے ذہن میں آیا کہ بالکل یہ معنی ہیں ) و کوشتنا اگر ہماری مرضی پر وہ چلتا (’ہم چاہتے تبھی ہوتا نا جب ہماری مرضی پر چلتا ) لرفعته أسے روحانی رفعتیں حاصل ہو جاتیں لیکن وہ ہماری مرضی پر نہیں چلا بلکہ اہوائے نفس کی اس نے اتباع کی وَلكِنَّةُ اخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وہ زمین پر گر پڑا رفعتیں حاصل کرنے کی بجائے۔وَاتَّبَعَ هونه یہ قرآن کریم کا ہے اَخُلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوله رفعتوں سے محرومی اسے ملی اور زمین پہ اسی طرح ، زمین کا کیڑا جس طرح زمین پہ چل رہا ہوتا ہے وہ اس کی حالت بن گئی۔انسان زمینی گراوٹ کے لیے نہیں پیدا کیا گیا۔انسان کو مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريت: ۵۷) کی آیت جس کی طرف اشارہ کرتی ہے ) آسمانوں کی بلندیوں کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بشارت دی امت مسلمہ کو کہ جب تم میں سے کوئی عاجزی، انکساری اور تواضع کی راہوں کو اختیار کرے گا رَفَعَهُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ (کنز العمال جلد ۲ صفحہ ۲۵) ساتویں آسمان کی بلندیاں اسے حاصل ہو جائیں گی۔یہاں یہ فرمایا اگر وہ ہماری مرضی کی راہوں کو اختیار کرتا لرفعنہ ہم نے اس کے لیے بلندیاں مقدر کیں ہوئی تھیں لیکن اخلد إِلَى الْأَرْضِ وہ تو زمین پر گر پڑا، زمین کا کیڑا بن گیا وَاتَّبَعَ هَوله اور اپنے اہوائے نفس کی اتباع اس نے کرنی شروع کر دی۔دوسری چیز جس سے کہ حصول میں روک بنتی ہے اتباع اہوائے نفس وہ یہ ہے۔شہوات نفسانی کی